تازہ ترین
گلگت میں دہشت گردی کے ممکنہ خطرات کے پیش نظر سکیورٹی کو ہائی الرٹ کر دیا گیا گلگت ،حافظ حفیظ الرحمن نے الیکشن 2026 کے لیے اپنے کاغذات نامزدگی جمع کرا دیئے گلگت بلتستان ،دیامر کے تھور نالے میں سرچ آپریشن ،18مشتبہ افراد گرفتار گلگت ،سیکیورٹی ہائی الرٹ ،پولیس و دیگر قانون نافذ کرنیوالے اداروں نے حفاظتی اقدامات مزید سخت کر دیئے پانڈیا کی آئی پی ایل میں بدترین کپتانی، تنقید کی زد میں آگئے گلگت بلتستان انتخابات: خواتین و ٹیکنوکریٹس نشستوں کیلئے ریٹرننگ اور اسسٹنٹ ریٹرننگ افسران مقرر الیکشن کمیشن ،گلگت بلتستان اسمبلی انتخابات ،اپیلوں کی سماعت کیلئے اپیلیٹ ٹربیونل کے قیام کا باقاعدہ ... گلگت ، الیکشن ایکٹ دفعات کے تحت خواتین ، ٹیکنوکریٹس کیلئے مختص نشستوں پر انتخابات کے انعقاد کیلئے آر... گلگت، میونسپل ٹیم کا چھاپہ ،بچوں کا ایکسپائری دودھ فروخت کرنے پر میڈیکل سٹور سیل گلگت بلتستان ، مسلم لیگ (ن) کی قیادت کا اہم مشاورتی اجلاس،انتخابی تیاریوں کے حوالے سے جائزہ لیا گیا
ضلع گلگت

ٹی20 ورلڈ کپ: کیا پاک بھارت ٹاکرا دوبارہ ممکن ہے؟

کولمبو: بھارت نے ٹی20 ورلڈ کپ کے اہم میچ میں پاکستان کو شکست دے کر سپر 8 مرحلے کے لئے کوالیفائی کرلیا ہے، بھارت نے گروپ اے میں امریکا اور نمیبیا کے بعد پاکستان کو بھی یکطرفہ مقابلے میں 61 رنز سے شکست دے دی۔

رپورٹس کے مطابق پاکستان کو ابھی اگلے مرحلے تک رسائی کے لیے مزید جدوجہد کرنا ہے۔ 3 میچوں میں 2 کامیابیوں اور ایک شکست کے ساتھ پاکستان اپنے گروپ میں تیسرے نمبر پر ہے اور پوائنٹس کے اعتبار سے امریکا کے برابر ہے جو دوسرے نمبر پر موجود ہے۔

پاکستان کو کو 18 فروری کو آر پریماداسا اسٹیڈیم میں نمیبیا کو شکست دینا لازمی ہے تاکہ سپر 8 مرحلے میں پہنچ سکے۔

اگرچہ آئی سی سی اور اے سی سی ٹورنامنٹس میں پاک بھارت ٹیمیں اکثر مدمقابل آتی رہی ہیں، تاہم پاک بھارت مقابلے کی شدت کبھی کم نہیں ہوتی۔ اب اہم سوال یہ ہے کہ کیا اس ٹورنامنٹ میں دونوں ٹیموں کا دوبارہ آمنا سامنا ہو سکتا ہے؟

ٹورنامنٹ فارمیٹ کے مطابق چاروں گروپس سے 2، 2 ٹیمیں سپر 8 مرحلے کے لیے کوالیفائی کرتی ہیں۔ 8 ٹیموں کو پھر 2 گروپس میں تقسیم کیا جاتا ہے جہاں ہر ٹیم اپنے گروپ میں راؤنڈ رابن کی بنیاد پر میچ کھیلتی ہے۔ دونوں گروپس کی ٹاپ 2 ٹیمیں سیمی فائنل کے لیے کوالیفائی کرتی ہیں۔

ٹورنامنٹ سے قبل آئی سی سی کی درجہ بندی کے مطابق سرفہرست 8 ٹیموں کو سپر 8 مرحلے کے لیے پہلے سے سیڈ کیا گیا تھا۔ طے شدہ فارمیٹ کے تحت بھارت اور پاکستان کو سپر 8 میں الگ الگ گروپس میں رکھا گیا ہے تاکہ ابتدائی مرحلے میں دوبارہ مقابلہ نہ ہو اور مسابقتی توازن برقرار رہے۔ اس لیے اب دونوں ٹیموں کی ممکنہ ٹکر صرف ناک آؤٹ مرحلے میں ہی ہو سکتی ہے۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر دونوں ٹیمیں سپر 8 سے سیمی فائنل کے لیے کوالیفائی کر لیتی ہیں اور ایک اپنی گروپ میں پہلی جبکہ دوسری رنر اپ پوزیشن حاصل کرتی ہے تو دونوں ٹیموں کا سیمی فائنل میچ ہوسکتا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button