تازہ ترین
دریائوں اور آبی ذخائر میں پانی کی آمد و اخراج کے اعدادوشمار گلگت بلتستان میں ترقی اور خوشحالی کا سفر کسی صورت رکنے نہیں دیا جائے گا،انجینئر امیر مقام، خواجہ سعد... گلگت بلتستان میں انتخابی مہم کا فائنل راؤنڈ شروع، بلاول بھٹو اسکردو پہنچ گئے مایہ ناز اتھلیٹ مسعود خان کا نیا ریکارڈ، پشاور تا سکردو 808 کلومیٹر دوڑ 9 دن میں مکمل کرلی ،اہل علاق... گلگت بلتستان میں ایک ہفتے سے لاپتا جاپانی سیاح کی لاش کھائی سے مل گئی پی ٹی آئی نے گلگت بلتستان انتخابات 2026ء سے متعلق اہم سرکلر جاری کر دیا معرکہ حق میں پاکستان کی فتح کا ایک سال مکمل ہونے پر لاہور، پشاور، کراچی، کوئٹہ سمیت ملک بھر میں جگہ ... معرکہ حق میں تاریخی فتح کا ایک سال مکمل ،گلگت میں یادگار شہدا پر پروقار تقریب کا انعقاد گلگت بلتستان انتخابات،خواتین کی مخصوص اور ٹیکنوکریٹس کی نشستوں پر امیدواروں کی حتمی فہرستیں جاری استحکام پاکستان پارٹی نے گلگت بلتستان انتخابات کیلئے امیدواروں کا اعلان کردیا
ضلع گلگت

گلگت بلتستان کے علاقے کندوس میں سیلاب سے بڑی تباہی، ریسکیو اور سرچ آپریشن شروع

گلگت بلتستان حکومت کے ترجمان فیض اللہ فراق نے کہا ہے کہ ایک ہفتے سے سیلابی ریلوں کا شکار ضلع دیامر میں 9 گاوں تباہ ہوئے ہیں, تباہ ہونے والوں ان گاؤں میں شراٹ، ڈسر، جل، گھانچے، سارے، پریکا، دیورے، عالم کھن، غنی کھن، دیونگ اور لوشی شامل ہیں۔صوبائی حکومت کے ترجمان نے بتایا کہ متاثرہ مقامات پر بے گھر ہونے والے متاثرین میں 300 خیمے تقسیم کیے گئے، 300 فورڈ پیکٹس ، 50 کچن سیٹ اور 509 کمبل تقسیم کیے گئے ہیں، ایک ہفتے کے دوران دیامر کی 5 وادیاں تھک بابوسر ،تھور ،کھنر ،بٹوگاہ ، تانگیر اور کھنبری کو بار بار آنے والے سیلابی ریلوں نے نشانہ بنایا ہے۔ترجمان نے بتایا کہ سیلاب سے گانچھے، غذر، کھرمنگ اور گلگت کے اضلاع بڑے سیلابی ریلوں سے متاثر ہوئے، جس سے درجنوں افراد بے گھر ہو گئے ہیں،شاہراہ قراقرم کو ہرقسم کی ٹریفک کے لیے کھول دیا گیا ہے، مشہور تفریح گاہ فیری میڈو میں پھنسے سیاحوں کو بذریعہ ہیلی کاپٹر چیلاس منتقل کیا گیا ہے۔

ترجمان کے مطابق سیلابوں سے پانی ،بجلی اور سڑکوں کو شدید نقصان پہنچا، ہزاروں لوگوں کو پینے کا پانی اور بجلی کی سہولتیں نہ ہونے سے پریشانی کا سامنا ہے۔گلگت بلتستان میں سیلابی ریلوں کی تباہی سے تفریح گاہیں ویران اور ہوٹلز سنسان ہوگئے ہیں۔دیامر کے مقامی افراد نے بتایا کہ سیلاب سے جس قدر تباہی ہوئی، اس اعتبار سے بحالی کے لیے مشنری موجود نہیں ہے، جس سے بحالی کا کام میں مزید کئی ہفتے لگ سکتے ہیں۔مقامی لوگوں نے نے مطالبہ کیا کہ ملبے تلے دب جانے والے ایک درجن افراد کو نکالنے کے لیے آرمی کے سراغ رساں کتوں کی مدد سے تلاش کیا جانے، ورنہ لاپتہ افراد کے ملنے کے بہت کم امکانات ہیں۔ضلع گانچھے کے مقامی صحافیوں کے مطابق وہاں 50 گھر تباہ ہونے ہیں، جس کے بعد بے گھر افراد کے لیے خیمہ بستی قائم کر دی گئی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button