گلگت بلتستان کو اندھیروں ،محرومیوں میں دھکیلنے والی سیاسی جماعتیں انتخابات کے قریب آتے ہی بیت بازی میں مصروف

گلگت بلتستان کو اندھیروں اور محرومیوں میں دھکیلنے والی سیاسی جماعتیں انتخابات کے قریب آتے ہی بیت بازی اور خود ستائی میں مصروف ہو گئیں ۔صوبائی صدر اسلامی تحریک پاکستان نے میڈیا کو جاری بیان کہا کہ اس وقت عوام میں آئینی حقوق کے حوالے سے دن بدن بے چینی بڑھ رہی ہے مگر کسی بھی برسرِ اقتدار جماعت کے پاس اس کاخاطر خواہ جواب موجود نہیں۔
آئینی حقوق ہی تعمیر و ترقی کی اصل روح ہیں جن کے بغیر گرینڈ گرانٹس بھی عارضی اور بے سود ثابت ہوتی ہیں۔ بدقسمتی سے اکثر سیاسی جماعتوں نے مستقل حل کے بجائے عارضی اقدامات کیے جن کا مقصد صرف اگلی پانچ سالہ حکومت کا حصول رہا۔ انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان کے بنیادی مسائل کو چھیڑے بغیر ترقی کے دعوے کرنا عوام کو سیاسی طور پر گمراہ کرنے کے مترادف ہے۔
آج پورا گلگت بلتستان شدید بجلی بحران کا شکار ہیخطہ مجموعی طور پر پسماندگی کی طرف لوٹ چکا ہے سرحدی تجارت زبوں حالی کا شکار ہے اور گڈ گورننس کی مثال دینے کے لیے کوئی محکمہ یا دفتر دکھائی نہیں دیتا۔صوبائی صدر نے کہا کہ 1970 سے اب تک کیے گئے اقدامات اور متعارف کرائی گئی اصلاحات عوام کو احساسِ محرومی اور مسائل کے گرداب سے نکالنے میں ناکام رہی ہیں۔
شمالی علاقہ جات کہلانے کے دور میں بھی گلگت بلتستان قومی دھارے کا حصہ نہیں تھا اور گلگت بلتستان کا نام رکھنے سڑکوں اور شاہراہوں کا جال بچھانے کے باوجود نہ ہماری آئینی محرومیاں ختم ہوئیں اور نہ ہی قومی اسمبلی یا سینیٹ میں مثر نمائندگی ممکن ہو سکی۔ انہوں نے مزید کہا کہ اسلامی تحریک پاکستان نے 1994 میں گلگت بلتستان کو پاکستان کا پانچواں صوبہ بنانے کا تصور پیش کیا تھا جسے بعد ازاں تمام سیاسی جماعتوں نے اپنایامگر صوبائی حیثیت کے حصول میں کبھی سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کیا گیا۔ عارضی وقتی اور خوش فہمی پر مبنی اقدامات کے ذریعے صرف وقتی سیاسی اہداف حاصل کیے جاتے رہے جبکہ عوام کے بنیادی اور آئینی حقوق مسلسل نظر انداز ہوتے رہے ۔
Facebook Twitter











