تازہ ترین
ضلع گلگت

گلگت بلتستان ،تالی داس اورراوش میں لینڈ سلائیڈنگ کے باعث بننے والی 8کلومیٹر مصنوعی جھیل کے سپل وے کھولنے کا فیصلہ

گلگت بلتستان کے ضلع غذر کے گائوں تالی داس اورراوش میں لینڈ سلائیڈنگ کے باعث بننے والی 8کلومیٹر مصنوعی جھیل کا این ایچ اے، واپڈا، جی بی ڈی ایم اے اور ریسکیو حکام معائنہ کرکے سپل وے کھولنے پرغورکرنے لگے ۔ اس حوالے سے ضلع غذر کیباسیوں نے متعلقہ حکام سے پرزورمطالبہ کرتے ہوئے بتایاہے کہ اس وقت تالی داس را وشن مصنوعی جھیل کے سپل وے کو کھولنے کی کوشش جی بی کے درجنوں نشیبی علاقوں کے لئے خطرے کی گھنٹی سے کم نہیں ۔اگرحکومت اس کوکھولنے کے بجائے متاثرین کوفوری مستقل بنیادوں پرمحفوظ مقامات پر آبادکرنے کے لئے منصوبندی کی جائے تومتاثرین کے مشکلات میں کمی آسکتی ہیں ۔انہوں نے کہاکہ آپ بخوبی جانتے ہیں کہ اٹھ کلومیٹر کے رقبے پر پھیلی اس مصنوعی جھیل میں اربوں گیلن پانی ذخیرہ ہے۔

اس وقت اس جھیل کے مرکزی منہ پر کام شروع کی ہے۔ کام کرنے کا یہ غیر پیشہ ورانہ طریقہ نیچے دھارے والے علاقوں کے لیے ایک بہت بڑا خطرہ ہے اور جھیل پھٹنے کی صورت میں یہ ضلع غذر سے دیامر تک دریا کے کنارے کے ہزاروں ایکڑ زرعی زمینات ،باغات اوردرجنوں دیہات زیرآب آنے خطرہ ہے ۔انہوں نے اعلی حکام سے مطالبہ کیاہے کہ سپل وے کھولنے کے اس غیر پیشہ ورانہ اوربے غیر منصوبہ بندی سے شروع کی گئی کام کو روکا جائے اور لاکھوں لوگوں اور زمینوں کو دبنے سے بچائیں۔ دنیا کے کسی بھی مقام پر سپل وے کو کھولنے کا کام انتہائی سنجیدگی اورسوچ سمجھ سے کیاجاتاہے جس سے کسی بھی مصنوعی جھیل سے پانی کے اخراج کو بتدریج کنٹرول کرنے میں کئی مہینے لگ جاتے ہیں۔یہاں کے باسیوں نے وفاقی ،صوبائی حکومت ، چیف سیکرٹری جی بی دیگر متعلقہ حکام سے پرزورمطالبہ کیاہے کہ وہ تمام ڈاون اسٹریم علاقوں کو لاحق خطرے کے پیش نظر اسپل وے تالی داس اوررا واشن مصنوعی جھیل کے کام پر پابندی عائد کریں۔اللہ کی بنائی ہوئی جھیل کو اس کی اصلی شکل میں برقرار رکھیں جس سے متاثرین کو کاروبار کے نئے مواقع اور وقت گزرنے کے ساتھ ان کی زندگیوں میں تبدیلی لا کر یقینا فائدہ پہنچے گا۔انہوں نے مزیدکہاہے کہ گوپس، پھنڈر اور یاسین کے عوام کومتاثرہ روڈ کی وجہ سے آمدروفت میں مشکلات کاسامناہے جس کومستقل بنیادوں پرحل کرنے کے لئے روداس گاں کے شروع سے آخر تک ادھا کلومیٹر ٹینل بنانے کی ضرورت ہے ۔اس وقت سپل وے کھولنا حکومتی وسائل کو ضائع کر ناہے ۔ان علاقوں میں مزید لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ ہے ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button