قراقرم انٹرنیشنل یونیورسٹی اور این سی ایچ ڈی کے درمیان خواندگی کو بڑھانے کے لیے باہمی تعاون کے سمجھوتے پر دستخط

قراقرم انٹرنیشنل یونیورسٹی اور نیشنل کمیشن فار ہیومن ڈولپمنٹ (این سی ایچ ڈی) اسلام آباد نے خواندگی کو بڑھاتے ہوئے سماجی اور معاشی ترقی کو فروغ دینے کے لیے مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) پر دستخط کردئیے۔شعبہ تعلقات عامہ کے آئی یو کے مطابق باہمی تعاون کے سمجھوتے پر کے آئی یوکی جانب سے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر عطاء اللہ شاہ اور این سی ایچ ڈی کے ڈائریکٹر جنرل علی اصغر نے دستخط کی۔معاہدہ وزیراعظم کے ایجوکیشن ایمرجنسی2024 کے تحت ای او ٹی او پروگرام کا حصہ ہے جس کا مقصد ملک بھر میں خواندگی اور تعلیم تک رسائی کو بڑھانا ہے۔ای او ٹی او پروگرام کے تحت کے آئی یو ایک فوکل پرسن نامزد کرے گی جو سرگرمیوں کی ہم آہنگی، ماسٹر ٹرینرز فراہم کرنے، طلبہ کی شرکت کو آسان بنانے اور تدریسی مواد اور سیکھنے والوں کے جائزوں کا انتظام کرے گی۔جبکہ این سی ایچ ڈی تکنیکی مدد فراہم کرے گی، فوکل پرسنز اور ماسٹر ٹرینرز کی تربیت کرے گی، کورس کا مواد فراہم کرے گی اور پیشرفت کی نگرانی کرے گی۔یہ شراکت داری طلبہ کے لیے مواقع فراہم کرتی ہے جس میں ہنر کی ترقی، انٹرن شپ اور ممکنہ روزگار شامل ہیں۔اس شراکت داری کے تحت دونوں ادارے مشترکہ تحقیق، سیمینارز، ورکشاپس اور کانفرنسز کے ساتھ ساتھ علم اور وسائل کے اشتراک کے لیے مطبوعات کے تبادلے میں بھی تعاون کریں گے۔مزید برآں کے آئی یو اور این سی ایچ ڈی طلبہ اور عملے کو شامل کرتے ہوئے رضاکارانہ خدمات اور کمیونٹی ورک کو فروغ دینے کے لیے مختلف سرگرمیوں میں بھی تعاون کریں گے۔ یہ تعاون کمیونٹیز کو بااختیار بنانے اور پائیدار ترقی کے لیے معاون ہوگی۔باہمی تعاون کے سمجھوتے کے حوالے سے منعقدہ تقریب سے اظہار خیال کرتے ہوئے وائس چانسلر کے آئی یو پروفیسر ڈاکٹر عطاء اللہ شاہ نے کہاکہ یہ ایم او یو خطے میں تعلیمی اور سماجی چیلنجز سے نمٹنے کی طرف ایک اہم قدم ہے۔کے آئی یو کی تعلیمی مہارت کو این سی ایچ ڈی کے ترقیاتی اقدامات کے ساتھ ملانے سے ہم اپنے نوجوانوں اور کمیونٹیز کے لیے بامعنی مواقع پیدا کریں گے۔ان سے قبل این سی ایچ ڈی کے ڈائریکٹر علی اصغر نے زور دیاکہ یہ شراکت داری تعلیم اور کمیونٹی کی شمولیت کے ذریعے انسانی ترقی کے اشاریوں کو بہتر بنانے کی ہماری کوششوں کو تقویت دے گی جو قومی ترجیحات کے مطابق ہے۔اس معاہدے سے خطے میں جدید منصوبوں اور دیرپا اثرات کی راہ ہموار ہونے کی توقع ہے۔











