تازہ ترین
حقِ خودارادیت کیلئے کشمیریوں کی جدوجہد ایک دن ضرور رنگ لائے گی،وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان حقِ خودارادیت کیلئے کشمیریوں کی جدوجہد ایک دن ضرور رنگ لائے گی،وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان حقِ خودارادیت کیلئے کشمیریوں کی جدوجہد ایک دن ضرور رنگ لائے گی،وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان تنازعہ جموں و کشمیر کا حل جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کی ضمانت ہے،نگران وزیراعلی گلگت بلتستان نیٹکو قومی ادارہ ،منافع بخش بنانے کے لیے حکومت ہر ممکن تعاون فراہم کرے گی، جسٹس (ر)یار محمد گلگت یوتھ کے مختلف صدور نے غیر قانونی شناختی کارڈ ، ڈومیسائل ،پاسپورٹ اجرا کی تحقیقات کیلئے نگران وز... گلگت کنوداس کلین ڈرنکنگ واٹر سپلائی منصوبہ 9سال سے مکمل نہ ہو سکا، لاگت 85 تک پہنچ گئی، عوام کا اظہا... (ن) لیگ گلگت بلتستان میں اہم پیشرفت، پارٹی کے اندرونی اختلافات ختم گلگت میونسپل حدود میں غیر قانونی تجاوزات کے خلاف بھرپور کریک ڈاؤن، دکانیں، فٹ پاتھ اور چار دیواریاں ... چپورسن زلزلہ متاثرین کیلئے ونٹرائزڈ ٹینٹس، فوڈ پیکس اور امدادی سامان روانہ، سڑک ایمرجنسی بنیادوں پر ...
ضلع گلگت

وزیراعلیٰ آٹھ سو ملین روپے سے اپنوں کو نواز رہے ہیں،حفیظ الرحمن

سابق وزیراعلی و صدر مسلم لیگ (ن)گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمن نے کہا ہے کہ حکومتی چھتری تلے ترقیاتی اور غیر ترقیاتی بجٹ کو نوچا جارہا ہے۔ بدترین نااہلی اور کرپشن کے معاملات منہ کھولے اداروں کی توجہ کے منتظر ہیں۔ گلگت بلتستان کے عوام کے 800 ملین روپے وزیراعلی کے بلاک ایلوکیشن کے مد میں وزیراعلی کے اختیار کے فنڈز کو گلگت بلتستان سے کوہستان تک وزیراعلی کے دوستوں میں حفاظتی بند،کلوٹ اور دیگر مرمتی معاملات کے نام پر تقسیمِ کرنے کی مذموم کوشش کی جارہی ہے۔جو کہ گلگت بلتستان کے عوام کے بنیادی حقوق کے ساتھ بدترین مذاق کے مترادف ہے۔ انہوں نے کہاکہ گلگت بلتستان کے عوام پانی بجلی اور دیگر بنیادی سہولتوں کیلئے دربدر ہیں اور نااہل وزیراعلی دوستوں کو نوازنے کیلئے اپنے صوابدیدی ترقیاتی فنڈز کو نواز رہے ہیں جو کہ ناقابل برداشت عمل ہے۔گلگت بلتستان کے ادارے ہوش کے ناخن لیں اپنی اولین زمہ داریاں ادا کریں۔حقائق جاننا عوام کا بنیادی حق ہے800 ملین کے یہ فنڈز گلگت بلتستان کے عوام کی ملکیت ہیں وزیراعلی نے صوابدید کے نام پر جو سکیمیں دیں ہیں اور جن شخصیات کو دی گئیں ہیں ان کو فوری طور پر عوام کے سامنے لایا جائے۔سابق وزیر اعلی و صدر مسلم لیگ (ن)گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمن نے مزید کیا کہ موجودہ صوبائی حکومت کسی بھی سیاسی جماعت کی نمائندہ حکومت نہیں ہونے کے باعث خود کو عوام کے سامنے جوابدہ نہیں سمجھتی ۔ 18 ماہ کی حکومت میں یہ عناصر اپنا حکومتی ایجنڈا عوام کے سامنے نہیں لاسکے۔وزیراعلی اور وزرا کی حکومتی مصروفیات کا عوام کو کوئی خیر خبر نہیں رہتی۔جو کہ بڑا المیہ ہے۔صوبائی حکومت اور وزرا حکومتی کارکردگی سے دور مالی وارداتوں میں مصروف عمل ہیں۔انہوں نے کہا کہ سابقہ اور مجودہ حکومت کا چار سال سے زائد کا عرصہ گزر چکا ہے وفاقی حکومت سے ڈویلپمنٹ اور نان ڈویلپمنٹ کے نام پر کھربوں روپے حاصل کئے گئے ہیں۔نتیجے میں نہ کوئی منصوبہ نمایاں نظر آرہا ہے اور نہ کارکردگی کے آثار نظر آتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان میں موجودہ چار سالوں کی حکومت کا احتساب وقت کی ضرورت ہے۔تحقیقاتی اداروں کو اپنی زمہ داریاں ادا کرنی ہوگیں۔گلگت بلتستان کے عوام کے وسائل کسی بھی طرح کے طالع آزماں کو ہڑپنے نہیں دیں گیں۔حقائق جاننا عوام کا فرض ہے مسلم لیگ (ن) اپنا عوامی فریضہ ادا کرتی رہے گی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button