تازہ ترین
مایہ ناز اتھلیٹ مسعود خان کا نیا ریکارڈ، پشاور تا سکردو 808 کلومیٹر دوڑ 9 دن میں مکمل کرلی ،اہل علاق... گلگت بلتستان میں ایک ہفتے سے لاپتا جاپانی سیاح کی لاش کھائی سے مل گئی پی ٹی آئی نے گلگت بلتستان انتخابات 2026ء سے متعلق اہم سرکلر جاری کر دیا معرکہ حق میں پاکستان کی فتح کا ایک سال مکمل ہونے پر لاہور، پشاور، کراچی، کوئٹہ سمیت ملک بھر میں جگہ ... معرکہ حق میں تاریخی فتح کا ایک سال مکمل ،گلگت میں یادگار شہدا پر پروقار تقریب کا انعقاد گلگت بلتستان انتخابات،خواتین کی مخصوص اور ٹیکنوکریٹس کی نشستوں پر امیدواروں کی حتمی فہرستیں جاری استحکام پاکستان پارٹی نے گلگت بلتستان انتخابات کیلئے امیدواروں کا اعلان کردیا دفاتر کی چمک دمک پر عوام کا پیسہ خرچ نہیں ہوگا، نگران وزرا نے فنڈز واپس کر دیے، شبیر میر گلگت بلتستان اسمبلی انتخابات کیلئے مسلم لیگ ن کے امیدواروں کا اعلان وزیرِ اعظم شہباز شریف گلگت پہنچ گئے، گورنر اور نگران وزیرِ اعلیٰ سے ملاقاتیں، ترقیاتی منصوبوں، امن و...
ضلع گلگت

وزیراعلیٰ آٹھ سو ملین روپے سے اپنوں کو نواز رہے ہیں،حفیظ الرحمن

سابق وزیراعلی و صدر مسلم لیگ (ن)گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمن نے کہا ہے کہ حکومتی چھتری تلے ترقیاتی اور غیر ترقیاتی بجٹ کو نوچا جارہا ہے۔ بدترین نااہلی اور کرپشن کے معاملات منہ کھولے اداروں کی توجہ کے منتظر ہیں۔ گلگت بلتستان کے عوام کے 800 ملین روپے وزیراعلی کے بلاک ایلوکیشن کے مد میں وزیراعلی کے اختیار کے فنڈز کو گلگت بلتستان سے کوہستان تک وزیراعلی کے دوستوں میں حفاظتی بند،کلوٹ اور دیگر مرمتی معاملات کے نام پر تقسیمِ کرنے کی مذموم کوشش کی جارہی ہے۔جو کہ گلگت بلتستان کے عوام کے بنیادی حقوق کے ساتھ بدترین مذاق کے مترادف ہے۔ انہوں نے کہاکہ گلگت بلتستان کے عوام پانی بجلی اور دیگر بنیادی سہولتوں کیلئے دربدر ہیں اور نااہل وزیراعلی دوستوں کو نوازنے کیلئے اپنے صوابدیدی ترقیاتی فنڈز کو نواز رہے ہیں جو کہ ناقابل برداشت عمل ہے۔گلگت بلتستان کے ادارے ہوش کے ناخن لیں اپنی اولین زمہ داریاں ادا کریں۔حقائق جاننا عوام کا بنیادی حق ہے800 ملین کے یہ فنڈز گلگت بلتستان کے عوام کی ملکیت ہیں وزیراعلی نے صوابدید کے نام پر جو سکیمیں دیں ہیں اور جن شخصیات کو دی گئیں ہیں ان کو فوری طور پر عوام کے سامنے لایا جائے۔سابق وزیر اعلی و صدر مسلم لیگ (ن)گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمن نے مزید کیا کہ موجودہ صوبائی حکومت کسی بھی سیاسی جماعت کی نمائندہ حکومت نہیں ہونے کے باعث خود کو عوام کے سامنے جوابدہ نہیں سمجھتی ۔ 18 ماہ کی حکومت میں یہ عناصر اپنا حکومتی ایجنڈا عوام کے سامنے نہیں لاسکے۔وزیراعلی اور وزرا کی حکومتی مصروفیات کا عوام کو کوئی خیر خبر نہیں رہتی۔جو کہ بڑا المیہ ہے۔صوبائی حکومت اور وزرا حکومتی کارکردگی سے دور مالی وارداتوں میں مصروف عمل ہیں۔انہوں نے کہا کہ سابقہ اور مجودہ حکومت کا چار سال سے زائد کا عرصہ گزر چکا ہے وفاقی حکومت سے ڈویلپمنٹ اور نان ڈویلپمنٹ کے نام پر کھربوں روپے حاصل کئے گئے ہیں۔نتیجے میں نہ کوئی منصوبہ نمایاں نظر آرہا ہے اور نہ کارکردگی کے آثار نظر آتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان میں موجودہ چار سالوں کی حکومت کا احتساب وقت کی ضرورت ہے۔تحقیقاتی اداروں کو اپنی زمہ داریاں ادا کرنی ہوگیں۔گلگت بلتستان کے عوام کے وسائل کسی بھی طرح کے طالع آزماں کو ہڑپنے نہیں دیں گیں۔حقائق جاننا عوام کا فرض ہے مسلم لیگ (ن) اپنا عوامی فریضہ ادا کرتی رہے گی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button