تازہ ترین
معرکہ حق میں پاکستان کی فتح کا ایک سال مکمل ہونے پر لاہور، پشاور، کراچی، کوئٹہ سمیت ملک بھر میں جگہ ... معرکہ حق میں تاریخی فتح کا ایک سال مکمل ،گلگت میں یادگار شہدا پر پروقار تقریب کا انعقاد گلگت بلتستان انتخابات،خواتین کی مخصوص اور ٹیکنوکریٹس کی نشستوں پر امیدواروں کی حتمی فہرستیں جاری استحکام پاکستان پارٹی نے گلگت بلتستان انتخابات کیلئے امیدواروں کا اعلان کردیا دفاتر کی چمک دمک پر عوام کا پیسہ خرچ نہیں ہوگا، نگران وزرا نے فنڈز واپس کر دیے، شبیر میر گلگت بلتستان اسمبلی انتخابات کیلئے مسلم لیگ ن کے امیدواروں کا اعلان وزیرِ اعظم شہباز شریف گلگت پہنچ گئے، گورنر اور نگران وزیرِ اعلیٰ سے ملاقاتیں، ترقیاتی منصوبوں، امن و... دیواریں صاف، الیکشن شفاف؛ وال چاکنگ پر مکمل پابندی ہو گی، چیف الیکشن کمشنر گلگت بلتستان قراقرم انٹرنیشنل یونیورسٹی میں’’مشاعرہ بسلسلہ معرکہ حق‘‘کا شاندار انعقاد،افواج پاکستان کی تاریخی فتح... الیکشن کمیشن گلگت بلتستان کا انتخابی مہم کیلئے ضابطہ اخلاق جاری
Uncategorized

سپریم کورٹ ججز کی تعداد میں اضافے کا ترمیمی بل ایوان میں پیش

سپریم کورٹ ایکٹ 1997 میں ترمیم کا بل ایوان میں پیش کر دیا گیا اس بل میں عدالت عظمیٰ میں ججز کی تعداد 17 سے بڑھا کر 23 کرنے کی تجویز ہے۔

قومی اسمبلی میں سپریم کورٹ ایکٹ 1997 میں ترمیم کا بل ایوان میں پیش کر دیا گیا۔ یہ بل حکومتی رکن قومی اسمبلی دانیال چوہدری نے پیش کیا، جس میں عدالت عظمیٰ میں ججز کی تعداد 17 سے بڑھا کر 23 کرنے کی تجویز ہے۔

اعلیٰ عدلیہ سے متعلق 1997 ایکٹ میں ترمیم کے ذریعے ججز کی تعداد بڑھائی جائے گی اور بل کے مندرجات کے مطابق ججز کی تعداد میں اضافہ کیسز بیک لاگ کے باعث ضروری ہے۔

بل کے متن میں کہا گیا ہے کہ ججز کی تعداد میں اضافے سے کیسز کی بر وقت سماعت اور فیصلوں کو یقینی بنایا جا سکے گا۔ سائبر کرائم، ماحولیاتی قوانین، عالمی تجارت کے کیسز میں ماہرین کی ضرورت ہے اور مختلف شعبوں میں مہارت والے ججز کی تقرری سے درست فیصلہ سازی ہو سکے گی۔

ترمیمی بل میں کہا گیا ہے کہ ججز کی تعداد بڑھانے سے کسی جج پرغیر ضروری دباؤ میں کمی ہو گی۔

حکومت کی جانب سے بل پر اعتراض نہیں کیا گیا، تاہم اپوزیشن اتحاد کے رہنما محمود خان اچکزئی کی جانب سے اس بل پر اعتراض کیا گیا اور ساتھ ہی ایوان میں کورم پورا نہ ہونے کی نشاندہی کی تاہم جب اراکین کی گنتی کی گئی تو ایوان میں کورم پورا تھا۔

وزیر اطلاعات کی جانب سے مذکورہ بل کو مزید کارروائی کے لیے کمیٹی کو بھیجنے کی حمایت کی گئی جس کے بعد بل کو متعلقہ کمیٹی کے سپرد کر دیا گیا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button