تازہ ترین
نیٹکو قومی ادارہ ،منافع بخش بنانے کے لیے حکومت ہر ممکن تعاون فراہم کرے گی، جسٹس (ر)یار محمد گلگت یوتھ کے مختلف صدور نے غیر قانونی شناختی کارڈ ، ڈومیسائل ،پاسپورٹ اجرا کی تحقیقات کیلئے نگران وز... گلگت کنوداس کلین ڈرنکنگ واٹر سپلائی منصوبہ 9سال سے مکمل نہ ہو سکا، لاگت 85 تک پہنچ گئی، عوام کا اظہا... (ن) لیگ گلگت بلتستان میں اہم پیشرفت، پارٹی کے اندرونی اختلافات ختم گلگت میونسپل حدود میں غیر قانونی تجاوزات کے خلاف بھرپور کریک ڈاؤن، دکانیں، فٹ پاتھ اور چار دیواریاں ... چپورسن زلزلہ متاثرین کیلئے ونٹرائزڈ ٹینٹس، فوڈ پیکس اور امدادی سامان روانہ، سڑک ایمرجنسی بنیادوں پر ... گلگت بلتستان کی لیڈر شپ کی بھی کشمیری حریت یاسین ملک سے اظہاریکجہتی، پھانسی دیئے جانے کی کوششوں پراظ... ’بابر اعظم کو ناک آؤٹ میچ نہیں کھلانا چاہیے‘ بنگلادیشی بورڈ نے اہم اجلاس طلب کرلیا، بھارت جانے سے متعلق کھلاڑیوں سے رائے لی جائیگی ٹی 20 ورلڈ کپ: پی سی بی کا آئی سی سی کو خط، کی بنگلہ دیش کے موقف کی حمایت
ضلع گلگت

وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان حاجی گلبر خان کے زیر صدارت صوبے میں جاری ای ٹی آئی پروگرام کے حوالے سے اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا۔

اس موقع پر ای ٹی آئی پروگرام کو 2028 تک وسعت اور ای ٹی آئی کے تحت مختلف منصوبوں میں 27 ارب روپے کے استعمال کی حتمی منظوری کیلئے ایکنک کو سفارش کی گئی۔

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان نے کہاکہ زرعی شعبے کو فروغ دینے اور گلگت بلتستان کو زراعت میں خودکفیل بنانے کے حوالے سے ای ٹی آئی کا منصوبہ انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ حکومت ِگلگت بلتستان نے لینڈ ٹائٹلنگ کا مسئلہ حل کردیا ہے۔

وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان حاجی گلبر خان نے ڈبلیو ایچ او کے نمائندے ڈاکٹر لیوکووزیر اعلیٰ سیکریٹریٹ آمد پر خوش آمدید کہتے ہوئے کہا کہ گلگت بلتستان میں صحت کے شعبے کی بہتری کیلئے ڈبلیو ایچ او کا ہمیشہ سے تعاون رہا ہے۔ ہم اس بات کو خوش آئند سمجھتے ہیں کہ آپ کا تعلق ہمارے دوست ملک چین سے ہے جس سے پاکستان کے دیرینہ تعلقات ہیں۔

وزیر اعلیٰ نے ڈبلیو ایچ او کے نمائندے سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ گلگت بلتستان میں دیگر صوبوں کی طرز پر ڈبلیو ایچ او کا ریجنل آفس قائم کرنے کی ضرورت ہے جس کیلئے حکومت گلگت بلتستان ہر ممکن تعاون کرے گی۔ صوبے کے ہسپتالوں کے آٹومیشن ، بلاتعطل بجلی کی فراہمی کیلئے ہسپتالوں کی سولرئزیشن اور گلگت بلتستان کے دور افتادہ اور مشکل علاقوں کو مدنظر رکھتے ہوئے جدید موبائل ہسپتال اور ایمبولنس کی ضرورت ہے جس کیلئے ڈبلیو ایچ او کا خصوصی تعاون درکار ہے۔ اس کے علاوہ گلگت بلتستان میں نرسنگ سٹاف کی تربیت کے حوالے سے بھی ڈبلیو ایچ او کی مدد درکار ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button