تازہ ترین
دریائوں اور آبی ذخائر میں پانی کی آمد و اخراج کے اعدادوشمار گلگت بلتستان میں ترقی اور خوشحالی کا سفر کسی صورت رکنے نہیں دیا جائے گا،انجینئر امیر مقام، خواجہ سعد... گلگت بلتستان میں انتخابی مہم کا فائنل راؤنڈ شروع، بلاول بھٹو اسکردو پہنچ گئے مایہ ناز اتھلیٹ مسعود خان کا نیا ریکارڈ، پشاور تا سکردو 808 کلومیٹر دوڑ 9 دن میں مکمل کرلی ،اہل علاق... گلگت بلتستان میں ایک ہفتے سے لاپتا جاپانی سیاح کی لاش کھائی سے مل گئی پی ٹی آئی نے گلگت بلتستان انتخابات 2026ء سے متعلق اہم سرکلر جاری کر دیا معرکہ حق میں پاکستان کی فتح کا ایک سال مکمل ہونے پر لاہور، پشاور، کراچی، کوئٹہ سمیت ملک بھر میں جگہ ... معرکہ حق میں تاریخی فتح کا ایک سال مکمل ،گلگت میں یادگار شہدا پر پروقار تقریب کا انعقاد گلگت بلتستان انتخابات،خواتین کی مخصوص اور ٹیکنوکریٹس کی نشستوں پر امیدواروں کی حتمی فہرستیں جاری استحکام پاکستان پارٹی نے گلگت بلتستان انتخابات کیلئے امیدواروں کا اعلان کردیا
ضلع گلگت

جماعت اسلامی گلگت بلتستان کی بہار کے وزیر اعلی کی جانب سے مسلمان خاتون ڈاکٹر کا نقاب کھینچنے کی شدید مذمت

جماعت اسلامی گلگت بلتستان کے رہنماء مولانا عبد السمیع نے بھارتی شہر بہار کے وزیر اعلی نتیش کمار کی جانب سے ایک مسلمان خاتون ڈاکٹر کا نقاب کھینچنے کے واقعے پر شدید غم و غصے اور سخت الفاظ میں مذمت کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ واقعہ محض ایک فرد کے ساتھ بدسلوکی نہیں بلکہ اسلام، مسلم خواتین کی عزت، اور شریعت اسلامی کے واضح احکامات پر کھلا حملہ ہے۔ایک مسلمان خاتون کا نقاب اس کی ذاتی پسند نہیں بلکہ دینی فریضہ، شناخت اورغیرت ایمانی کی علامت ہے ، جسے کوئی بھی طاقت ، منصب یا حکومت پامال نہیں کر سکتی۔ انہوں نے کہا کہ نتیش کمار کا یہ عمل اس ذہنیت کی عکاسی کرتا ہے جو مسلمانوں کو ان کے مذہبی تشخص سے محروم کرنا چاہتی ہے۔

ایک باحجاب مسلمان خاتون کے نقاب کو سرِعام کھینچنا نہ صرف اخلاقی دیوالیہ پن ہے بلکہ ریاستی جبر، اسلام دشمنی اور مسلم خواتین کی تذلیل کی بدترین مثال ہے۔مولانا عبد السمیع نے دوٹوک انداز میں کہا کہ مسلمان کوئی کمزور اقلیت نہیں بلکہ ایک زندہ، بیدار اور باوقار امت ہے، جو اپنے دین، شریعت اور پردے کی حرمت پر کبھی سمجھوتہ نہیں کرے گی۔ اسلام نے عورت کو عزت، تحفظ اور وقار دیا ہے، اور پردہ اسی عزت کا حصار ہے، جس پر کوئی آنچ برداشت نہیں کی جائے گی۔انہوں نے عالمی برادری، انسانی حقوق کی تنظیموں اور انصاف پسند حلقوں سے مطالبہ کیا کہ وہ اس واقعے کا نوٹس لیں اور بھارت میں بڑھتی ہوئی اسلاموفوبیا، مسلم خواتین کی تضحیک اور مذہبی آزادی پر حملوں کے خلاف اپنی خاموشی توڑیں۔مولانا عبد السمیع نے خبردار کیا کہ اگر مسلم خواتین کے مذہبی تشخص اور پردے کی حرمت کو چیلنج کرنے کا سلسلہ بند نہ ہوا تو مسلمان اسے صرف بیانات تک محدود نہیں رکھیں گے، بلکہ ہر آئینی، قانونی اور اخلاقی فورم پر اس کے خلاف بھرپور آواز بلند کریں گے۔انہوں نے مزید کہا کہ جماعت اسلامی گلگت بلتستان واضح کرتی ہے کہ پردہ ہماری شریعت ، ہماری پہچان اور ہماری سرخ لکیر ہے ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button