تازہ ترین
دریائوں اور آبی ذخائر میں پانی کی آمد و اخراج کے اعدادوشمار گلگت بلتستان میں ترقی اور خوشحالی کا سفر کسی صورت رکنے نہیں دیا جائے گا،انجینئر امیر مقام، خواجہ سعد... گلگت بلتستان میں انتخابی مہم کا فائنل راؤنڈ شروع، بلاول بھٹو اسکردو پہنچ گئے مایہ ناز اتھلیٹ مسعود خان کا نیا ریکارڈ، پشاور تا سکردو 808 کلومیٹر دوڑ 9 دن میں مکمل کرلی ،اہل علاق... گلگت بلتستان میں ایک ہفتے سے لاپتا جاپانی سیاح کی لاش کھائی سے مل گئی پی ٹی آئی نے گلگت بلتستان انتخابات 2026ء سے متعلق اہم سرکلر جاری کر دیا معرکہ حق میں پاکستان کی فتح کا ایک سال مکمل ہونے پر لاہور، پشاور، کراچی، کوئٹہ سمیت ملک بھر میں جگہ ... معرکہ حق میں تاریخی فتح کا ایک سال مکمل ،گلگت میں یادگار شہدا پر پروقار تقریب کا انعقاد گلگت بلتستان انتخابات،خواتین کی مخصوص اور ٹیکنوکریٹس کی نشستوں پر امیدواروں کی حتمی فہرستیں جاری استحکام پاکستان پارٹی نے گلگت بلتستان انتخابات کیلئے امیدواروں کا اعلان کردیا
ضلع گلگت

دیامر سیلاب، ہلاکتوں کی تعداد 9ہوگئی، 500سے زائد گھر تباہ، 27پل بہہ گئے

ضلع دیامر سمیت گلگت بلتستان بھر میں سیلاب سے متعدد وادیوں کو شدید نقصان پہنچا ہے، سیلاب کے نتیجے میں 9 افراد جاں بحق جبکہ 12 زخمی ہوگئے ہیں ، جاں بحق ہونیوالوں میں دو بچے اور دو خواتین بھی شامل ہیں۔ترجمان جی بی حکومت فیض اللہ فراق کے مطابق چند روز قبل آنے والے تباہ کن سیلاب سے 500 سے زائد گھر تباہ ہو گئے جبکہ 10سے 12افراد اب بھی لاپتا ہیں جن کی تلاش جاری ہے۔انہوں نے بتایا کہ گلگت بلتستان میں مجموعی طور پر 12کلومیٹر سے زائد سڑکیں تباہ ہوئیں، 27پل اور 22گاڑیاں سیلاب کی نذر ہوگئیں جبکہ بجلی، پانی اور مواصلاتی نظام تباہ ہو گیا ہے۔ فیض اللہ فراق نے بتایا کہ پورے گلگت بلتستان میں سیلاب کی صورتحال رہی، سیلاب سے متعدد دکانیں اور مویشی خانے تباہ ہوئے، گاڑیاں اور ہزاروں فٹ عمارتی لکڑی ریلوں میں بہہ گئی۔انہوں نے بتایا کہ سب سے زیادہ مالی و جانی نقصانات ضلع دیامر میں ہوئے، بڑی بڑی چٹانیں سڑکوں پر آگئیں، متعدد افراد زخمی ہوئے اور واٹراسکیمز بہہ جانے سے پینے کا پانی ناپید ہو گیا۔ترجمان جی بی حکومت کے مطابق 300 سے زائد پھنسے مسافروں اور سیاحوں کو ریسکیو کیا گیا جبکہ لاپتہ افراد کی تلاش کیلئے سرچ آپریشن اب بھی جاری ہے، مختلف علاقوں میں پانی کے بہا اور لینڈ سلائیڈنگ کے باعث سرچ آپریشن اور سڑکوں کی بحالی میں مشکلات کا سامنا ہے۔انہوں نے بتایا کہ متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائیوں کے ساتھ ساتھ پانی و بجلی کی بحالی کا کام بھی جاری ہے جبکہ تباہ شدہ وادیوں میں نقصان کا تخمینہ لگانے کے لیے ٹیمیں بھجوائی جا رہی ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button