تازہ ترین
معرکہ حق میں پاکستان کی فتح کا ایک سال مکمل ہونے پر لاہور، پشاور، کراچی، کوئٹہ سمیت ملک بھر میں جگہ ... معرکہ حق میں تاریخی فتح کا ایک سال مکمل ،گلگت میں یادگار شہدا پر پروقار تقریب کا انعقاد گلگت بلتستان انتخابات،خواتین کی مخصوص اور ٹیکنوکریٹس کی نشستوں پر امیدواروں کی حتمی فہرستیں جاری استحکام پاکستان پارٹی نے گلگت بلتستان انتخابات کیلئے امیدواروں کا اعلان کردیا دفاتر کی چمک دمک پر عوام کا پیسہ خرچ نہیں ہوگا، نگران وزرا نے فنڈز واپس کر دیے، شبیر میر گلگت بلتستان اسمبلی انتخابات کیلئے مسلم لیگ ن کے امیدواروں کا اعلان وزیرِ اعظم شہباز شریف گلگت پہنچ گئے، گورنر اور نگران وزیرِ اعلیٰ سے ملاقاتیں، ترقیاتی منصوبوں، امن و... دیواریں صاف، الیکشن شفاف؛ وال چاکنگ پر مکمل پابندی ہو گی، چیف الیکشن کمشنر گلگت بلتستان قراقرم انٹرنیشنل یونیورسٹی میں’’مشاعرہ بسلسلہ معرکہ حق‘‘کا شاندار انعقاد،افواج پاکستان کی تاریخی فتح... الیکشن کمیشن گلگت بلتستان کا انتخابی مہم کیلئے ضابطہ اخلاق جاری
ضلع گلگت

ایران کی جوہری سائٹس پر امریکی حملے سخت قابلِ مذمت ہیں، سر دار عتیق احمد

 آل جمون وکشمیرمسلم کانفرنس کے صدر وسابق وزیراعظم سردارعتیق احمدخان نے کہا ہے کہ ایران کی جوہری سائٹس پر امریکی حملے سخت قابلِ مذمت ہیں،یہ حملے ہٹ دھرمی، جارحیت اور جنگی جرائم ہیں۔ اسرائیل کی پشت پناہی کے بعد اب امریکا کھل کر سامنے آگیا ہے ،امریکی جارحیت دنیا کا امن تباہ کرنے کے مترادف ہے،امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ دھوکا دہی اور فریب کا مظاہرہ کرتے ہوئے نئی جنگیں نہ شروع کرنے کے وعدے سے پھر گئے،پوری کشمیری اور پاکستانی قوم ایران کے ساتھ کھڑی ہے۔جو مسلمانوں پر بم برسائے اسے نوبیل انعام کے لیے نامزد کرنا ناقابلِ فہم ہے ۔ان خیالات کااظہارانہوں نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔انہوں نے کہا کہ امریکا اور اسرائیل کی کارروائیوں کے خلاف مسلم امہ کومتحدہوناہوگا۔

صدر ٹرمپ نے 8 مرتبہ غزہ میں جنگ بندی کی قراردادوں کو مسترد کیا ہے۔امریکی حملے اقوام متحدہ کے چارٹر کی سنگین خلاف ورزی اور ایک خطرناک اضافہ ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ یہ قدم انسانیت کو ایک ایسے بحران میں دھکیلتا ہے جس کے نتائج ناقابل واپسی ہوسکتے ہیں۔اگر یہ صورتحال یونہی بڑھتی رہی تو اس کے نہایت تباہ کن نتائج مرتب ہوں گے، جو صرف اس خطے تک محدود نہیں رہیں گے۔ شہری جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنانا ضروری ہے، اور تمام فریقین فوری طور پر جنگ بندی کریں۔ تمام اقوام کو بین الاقوامی قانون، خصوصاً بین الاقوامی انسانی قوانین کی پابندی کرنی چاہیے، خطے میں بحران کا حل صرف اور صرف اقوام متحدہ کے چارٹر کے اصولوں اور مقاصد کے مطابق مکالمے اور سفارت کاری کے ذریعے ہی ممکن ہے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button