تازہ ترین
دریائوں اور آبی ذخائر میں پانی کی آمد و اخراج کے اعدادوشمار گلگت بلتستان میں ترقی اور خوشحالی کا سفر کسی صورت رکنے نہیں دیا جائے گا،انجینئر امیر مقام، خواجہ سعد... گلگت بلتستان میں انتخابی مہم کا فائنل راؤنڈ شروع، بلاول بھٹو اسکردو پہنچ گئے مایہ ناز اتھلیٹ مسعود خان کا نیا ریکارڈ، پشاور تا سکردو 808 کلومیٹر دوڑ 9 دن میں مکمل کرلی ،اہل علاق... گلگت بلتستان میں ایک ہفتے سے لاپتا جاپانی سیاح کی لاش کھائی سے مل گئی پی ٹی آئی نے گلگت بلتستان انتخابات 2026ء سے متعلق اہم سرکلر جاری کر دیا معرکہ حق میں پاکستان کی فتح کا ایک سال مکمل ہونے پر لاہور، پشاور، کراچی، کوئٹہ سمیت ملک بھر میں جگہ ... معرکہ حق میں تاریخی فتح کا ایک سال مکمل ،گلگت میں یادگار شہدا پر پروقار تقریب کا انعقاد گلگت بلتستان انتخابات،خواتین کی مخصوص اور ٹیکنوکریٹس کی نشستوں پر امیدواروں کی حتمی فہرستیں جاری استحکام پاکستان پارٹی نے گلگت بلتستان انتخابات کیلئے امیدواروں کا اعلان کردیا
پاکستان

بنگلہ دیش جیسی ٹیم سے شکست کی کیا وجہ ہے؟ سابق کرکٹر نے کچا چٹھا کھول دیا

تین میچوں کی ٹی ٹوئنٹی سیریز کے دوسرے میچ میں بنگلہ دیش نے پاکستان کو سنسنی خیز مقابلے کے بعد 8 رنز سے شکست دے کر سیریز دو صفر سے اپنے نام کرلی ہے۔اس ٹی ٹونٹی سیریز کے ہارنے کے بعد سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا شائقین کرکٹ بابر اعظم اور محمد رضوان کی کمی کو محسوس کررہے ہیں؟جس طرح ہر شکست کے پس پردہ کچھ عوامل ہوتے ہیں جو کسی بھی ٹیم کو اس کی شکست کی طرف لے جاتے ہیں، قومی ٹیم کے ساتھ ایسا کیا ہوا جو اس کو یہ نتیجہ بھگتنا پڑا۔

اس حوالے سے اے آر وائی نیوز کے پروگرام اسپورٹس روم میں قومی ٹیم کے سابق کھلاڑی عبدالرؤف نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے قومی ٹیم اور پی سی بی کی کمزوریوں کی نشاندہی کی۔ان کا کہنا تھا کہ بدقسمتی سے پاکستان کرکٹ بورڈ کی کوئی پالیسی نہیں ہے اور نہ ہی عہدیداران کے پاس وہ قابلیت یا ڈائریکشن ہے جس کی وجہ سے یہ باتیں سننے کو ملتی ہیں کہ شائقین کرکٹ بابر اعظم اور محمد رضوان کو یاد کررہے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ یہ لوگ سوشل میڈیا پر ہونے والی باتوں کو سیریس لے کر ہی ایسے فیصلے کرتے ہیں، کہ جیسی ٹیم انہوں نے اس بار بنائی۔ بابر اعظم اور محمد رضوان اور دیگر کو ہم نے امریکا اور بھارت کے ساتھ میچوں میں دیکھ لیا کہ ان کی کارکردگی کیا تھی؟

ایک سوال کے جواب میں عبدالرؤف نے کہا کہ پوری دنیا میں ٹیموں میں تبدیلیاں ہوتی ہیں، لیکن یہاں جو لوگ ٹیم میں کھیلنے تک کے مستحق نہیں ہوتے انہیں کپتان بنا دیا جاتا ہے، شان مسعود 15 رنز کی ایوریج پر 25 ٹیسٹ میچ کھیل گیا۔اگر سلمان علی آغا کی بات کی جائے تو وہاں بھی یہی صورتحال ہے، اس کی ایسی کون سی کارکردگی ہے جو اسے قومی ٹیم کا کپتان بنا دیا گیا؟ بنگلہ دیش جیسی ٹیم سے وائٹ واش ہونے کے بعد کیا رہ جاتا ہے، اب پی سی بی عوام کو زیادہ دیر بے وقوف نہیں بنا سکتا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button