مرکزی امامیہ مسجد گلگت میں حکومت اور مذہبی قیادت کے درمیان ہونے والے مذاکرات کامیاب،دھرنا ختم

مرکزی امامیہ مسجد گلگت میں حکومت اور مذہبی قیادت کے درمیان ہونے والے مذاکرات کامیاب ہوگئے،جس کے بعد جاری دھرنا ختم کرنے اور میتوں کی تدفین پر رضامندی ظاہر کردی گئی ۔ نگران وزیر اعلی جسٹس (ر)محمد یار نے کابینہ اراکین ساجد علی بیگ ، سید عادل شاہ ، حافظ شرافت الدین اور دیگر حکام کے ہمراہ نمازِ فجر کے بعد مرکزی امامیہ مسجد گلگت کا دورہ کیا۔انہوں نے رہبرِ اعظم آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت پر تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے فاتحہ خوانی کی ۔ اس موقع پر قائد ملت جعفریہ آغا راحت الحسینی اور مرکزی انجمن کے دیگر عہدیداران سے ملاقات ہوئی،جس میں حالیہ واقعات ، جانی نقصان اور امن و امان کی صورتحال پر تفصیلی گفتگو کی گئی ۔
دونوں جانب سے اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ معاملات کو خوش اسلوبی اور پرامن طریقے سے حل کیا جائے گا ۔مرکزی انجمن امامیہ گلگت کے مطابق مذاکرات کے نتیجے میں ایک جوڈیشل کمیشن قائم کرنے ، زخمیوں کے سرکاری سطح پر علاج معالجے کی فراہمی اور جانی نقصان پر دیت کے مطالبات تسلیم کیے گئے ۔ ان پیش رفتوں کے بعد احتجاج ختم کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ ذرائع کے مطابق فریقین نے آئندہ بھی رابطے میں رہنے اور خطے میں امن و استحکام برقرار رکھنے کے عزم کا اظہار کیا ہی-مذاکرات کی کامیابی کے بعد جامع مسجد امامیہ میں موجود 8 شہدا ء کی میتوں کو ایمبولینس کے ذریعے ان کے آبائی علاقوں کی طرف روانہ کر دیے گئے ہیں جہاں پران کو دفنادیا گیا-











