چیف جسٹس سپریم اپیلیٹ کورٹ جسٹس سردار محمد شمیم نےکہ تمام پرانے مقدمات رواں سال 31 دسمبر تک نمٹانےکاحکم دےدیا۔

اسکردو : چیف کورٹ گلگت بلتستان سکردو رجسٹری کی نئی عمارت کی افتتاحی تقریب سےخطاب کرتے ہوئے جسٹس سردار محمدشمشم خان نے کہاکہ عدالتوں میں کیسز التوا میں نہیں پڑے رہنے چاہیں، بینچ اور بار لازم و ملزوم ہے، یہ ایک دوسرے کے تعاون سے آگے بڑھیں۔
اس حوالے سےچیف جسٹس سپریم اپیلیٹ کورٹ جسٹس سردار محمد شمیم نے کہا ہے کہ تمام پرانے مقدمات رواں سال 31 دسمبر تک نمٹائے جائیں اور سائلین کی مشکلات دور کی جائیں ججز کی ذمہ داری ہے کہ وہ لوگوں کو سستے اور فوری انصاف کی فراہمی میں کسی قسم کی کوئی کوتاہی نہ کریں، ججوں کا بنیادی کام لوگوں کو انصاف فراہم کرنا ہوتا ہے، وکلا سے کہتا ہوں کہ وہ کوئی غلط کیس نہ لیں، ان کیلئے اللہ رب العزت رزق کا متبادل بندوبست کرے گا، رزق اللہ کے ہاتھ میں ہے کوئی وکیل یہ نہ سمجھے کہ اس کا رزق کیسز سے منسلک ہے۔
چیف جج چیف کورٹ جسٹس علی بیگ نے کہا ہے کہ ہم سے قبل یہاں وکلا ہڑتال پر تھے ہم نے ان کے مطالبات مان لئے اور ان کے مسائل حل کئے چارج سنبھالتے ہی بلتستان اور دیامر ڈویژن میں چیف کورٹ کی رجسٹری قائم کی اور یہاں سنگل بینچ بنایا اور حد المقدور کوشش کی کہ لوگوں کو انصاف کی فراہمی کو یقینی بنائیں انشا اللہ ہم لوگوں کو انصاف کی فراہمی میں کبھی کوئی کوتاہی نہیں کریں گے۔
چیف کورٹ گلگت بلتستان کے رجسٹرار عباس چوپا نے کہاکہ عدالتیں لوگوں کو انصاف کی فراہمی کو یقینی بنانے کیلئے اپنا بھرپور کردار ادا کررہی ہیں۔ سکردو میں اعلیٰ عدالتوں کی عمارتوں کے قیام سے لوگوں کو ان کی دہلیز پر انصاف فراہم ہوگا، افتتاحی تقریب سے وکلا تنظیموں کے رہنماؤں نے بھی خطاب کیا۔