تازہ ترین
نیٹکو قومی ادارہ ،منافع بخش بنانے کے لیے حکومت ہر ممکن تعاون فراہم کرے گی، جسٹس (ر)یار محمد گلگت یوتھ کے مختلف صدور نے غیر قانونی شناختی کارڈ ، ڈومیسائل ،پاسپورٹ اجرا کی تحقیقات کیلئے نگران وز... گلگت کنوداس کلین ڈرنکنگ واٹر سپلائی منصوبہ 9سال سے مکمل نہ ہو سکا، لاگت 85 تک پہنچ گئی، عوام کا اظہا... (ن) لیگ گلگت بلتستان میں اہم پیشرفت، پارٹی کے اندرونی اختلافات ختم گلگت میونسپل حدود میں غیر قانونی تجاوزات کے خلاف بھرپور کریک ڈاؤن، دکانیں، فٹ پاتھ اور چار دیواریاں ... چپورسن زلزلہ متاثرین کیلئے ونٹرائزڈ ٹینٹس، فوڈ پیکس اور امدادی سامان روانہ، سڑک ایمرجنسی بنیادوں پر ... گلگت بلتستان کی لیڈر شپ کی بھی کشمیری حریت یاسین ملک سے اظہاریکجہتی، پھانسی دیئے جانے کی کوششوں پراظ... ’بابر اعظم کو ناک آؤٹ میچ نہیں کھلانا چاہیے‘ بنگلادیشی بورڈ نے اہم اجلاس طلب کرلیا، بھارت جانے سے متعلق کھلاڑیوں سے رائے لی جائیگی ٹی 20 ورلڈ کپ: پی سی بی کا آئی سی سی کو خط، کی بنگلہ دیش کے موقف کی حمایت
پاکستان

PSL میں اب روپیہ چلے گا یا ڈالر؟ اہم خبر آگئی

پاکستان سپر لیگ فرنچائز سے نئے معاہدے کی تیاری کر رہا ہے اس معاہدے میں روپیہ چلے گا یا ڈالر بڑی خبر آ گئی۔

دنیائے کرکٹ کی مقبول ترین لیگز میں سے ایک پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کا فرنچائز سے 10 سالہ معاہدہ مکمل ہو رہا ہے اور اب لیگ فرنچائز سے نئے معاہدوں کے لیے تیاریاں کر رہی ہیں۔ اس معاہدے کا ڈرافٹ کیا ہوگا؟ اس میں پاکستانی روپیہ اہم ہوگا یا ڈالر چلے گا۔ پی ایس ایل کی ویلیوایشن کے دوران نئی تجاویز سامنے آ گئی ہیں۔

ذرائع نے بتایا ہے کہ پی سی بی پاکستان سپر لیگ کے فنانشل ماڈل کے تحت رقم کا تبادلہ ڈالر کے بجائے پاکستانی روپے میں کرنے پر غور کر رہا ہے، اور نئی فرنچائز کے مالکانہ حقوق بھی پاکستانی روپے میں دیے جائیں گے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ اگلے ایک ہفتے میں کنٹریکٹ ری نیول ڈرافٹ بنا کر فرنچائز کو بھیجے جائیں گے۔ ری نیول کنٹریکٹ تسلیم نہ کرنے والی فرنچائز کی پھر کھلی نیلامی کی جائے گی۔پی ایس ایل میں شامل 6 فرنچائز کے معاہدے رواں برس دسمبر میں ختم ہو رہے ہیں اور گیارھویں سیزن میں ٹیموں کی تعداد 6 سے بڑھا کر 8 کی جا رہی ہے۔

سال 2015 میں جب پی ایس ایل کا آغاز ہوا تھا تو پانچ ٹیموں میں سب سے مہنگی ٹیم کراچی کنگز کو 2.6 کروڑ ڈالر میں خریدا گیا تھا۔ لاہور قلندرز 2.5، پشاور زلمی 1.6، اسلام آباد یونائیٹڈ 1.5 اور کوئٹہ گلیڈیئٹر 1.1 میں فروخت ہوئی تھیں۔سال 2017 میں جب چھٹی ٹیم کے طور پر ملتان سلطانز کو شامل کیا گیا تو یہ 6.35 کروڑ ڈالر سالانہ فیس پر خریدی گئی تھی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button