سیلاب متاثرین کی فوری بحالی کیلئے تمام وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں، وزیر داخلہ شمس الحق لون کی میڈیا بریفنگ

صوبائی وزیر داخلہ شمس الحق لون نے ہفتہ کو گلگت میں سیلابی صورتحال کے حوالے سے میڈیا کو بریفنگ دی۔ ان کے ہمراہ معاون خصوصی برائے ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی محمد علی قائد بھی موجود تھے۔ بریفنگ میں حالیہ شدید بارشوں اور سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں امدادی سرگرمیوں اور بحالی کے اقدامات پر تفصیلی روشنی ڈالی گئی۔شمس الحق لون نے بتایا کہ گلگت بلتستان میں 21 جولائی 2025 کو تھک-بابوسر، تھور، کنڈداس اور اشکومن میں کلاؤڈ برسٹ کے باعث شدید بارشوں نے تباہی مچائی جس سے سیاحوں اور مقامی آبادی کو نقصان پہنچا۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت نے فوری طور پر امدادی کارروائیاں شروع کیں جن میں 600 سے زائد افراد کو ریسکیو کیا گیا اور تباہ شدہ شاہراہوں کی مرمت کر کے مواصلاتی روابط بحال کیے گئے۔ریسکیو آپریشنز کے لیے 5 خیمہ بستیاں قائم کی گئیں اور 10 ہیلی کاپٹرز سمیت 2 سی-130 طیاروں کی مدد سے متاثرین کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا۔وزیر داخلہ نے بتایا کہ پاک فوج، این ڈی ایم اے، جی بی ڈی ایم اے، پولیس، 1122 اور ہیلتھ ورکرز نے امدادی سرگرمیوں میں کلیدی کردار ادا کیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ صوبائی حکومت نے ضلعی انتظامیہ اور امدادی اداروں کو 24/7 ہائی الرٹ رہنے کی ہدایت کی ہے تاکہ ممکنہ سیلابی خطرات سے نمٹا جا سکے۔حساس علاقوں کے سروے اور عوام کی محفوظ مقامات پر منتقلی کے اقدامات بھی جاری ہیں۔شمس الحق لون نے موسمیاتی تبدیلی کے اثرات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ گلگت بلتستان گلیشئیرز کے پگھلنے اور شدید بارشوں کے باعث سیلابی خطرات کا شکار ہے۔ انہوں نے وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا کہ موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لیے ایڈوانس وارننگ سسٹم کی تنصیب کو تیز کیا جائے اور متاثرہ علاقوں کی بحالی کے لیے فنڈز فراہم کیے جائیں۔انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ حکومتی ہدایات پر عمل کریں اور خطرناک علاقوں سے دور رہیں۔ صوبائی وزیر داخلہ نے یقین دلایا کہ حکومت گلگت بلتستان کے عوام کے تحفظ اور بحالی کے لیے تمام وسائل بروئے کار لا رہی ہے اور متاثرین کی امداد کے لیے ہر ممکن اقدام اٹھایا جائے گا











