تازہ ترین
نیٹکو قومی ادارہ ،منافع بخش بنانے کے لیے حکومت ہر ممکن تعاون فراہم کرے گی، جسٹس (ر)یار محمد گلگت یوتھ کے مختلف صدور نے غیر قانونی شناختی کارڈ ، ڈومیسائل ،پاسپورٹ اجرا کی تحقیقات کیلئے نگران وز... گلگت کنوداس کلین ڈرنکنگ واٹر سپلائی منصوبہ 9سال سے مکمل نہ ہو سکا، لاگت 85 تک پہنچ گئی، عوام کا اظہا... (ن) لیگ گلگت بلتستان میں اہم پیشرفت، پارٹی کے اندرونی اختلافات ختم گلگت میونسپل حدود میں غیر قانونی تجاوزات کے خلاف بھرپور کریک ڈاؤن، دکانیں، فٹ پاتھ اور چار دیواریاں ... چپورسن زلزلہ متاثرین کیلئے ونٹرائزڈ ٹینٹس، فوڈ پیکس اور امدادی سامان روانہ، سڑک ایمرجنسی بنیادوں پر ... گلگت بلتستان کی لیڈر شپ کی بھی کشمیری حریت یاسین ملک سے اظہاریکجہتی، پھانسی دیئے جانے کی کوششوں پراظ... ’بابر اعظم کو ناک آؤٹ میچ نہیں کھلانا چاہیے‘ بنگلادیشی بورڈ نے اہم اجلاس طلب کرلیا، بھارت جانے سے متعلق کھلاڑیوں سے رائے لی جائیگی ٹی 20 ورلڈ کپ: پی سی بی کا آئی سی سی کو خط، کی بنگلہ دیش کے موقف کی حمایت
ضلع گلگت

ایران کی جوہری سائٹس پر امریکی حملے سخت قابلِ مذمت ہیں، سر دار عتیق احمد

 آل جمون وکشمیرمسلم کانفرنس کے صدر وسابق وزیراعظم سردارعتیق احمدخان نے کہا ہے کہ ایران کی جوہری سائٹس پر امریکی حملے سخت قابلِ مذمت ہیں،یہ حملے ہٹ دھرمی، جارحیت اور جنگی جرائم ہیں۔ اسرائیل کی پشت پناہی کے بعد اب امریکا کھل کر سامنے آگیا ہے ،امریکی جارحیت دنیا کا امن تباہ کرنے کے مترادف ہے،امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ دھوکا دہی اور فریب کا مظاہرہ کرتے ہوئے نئی جنگیں نہ شروع کرنے کے وعدے سے پھر گئے،پوری کشمیری اور پاکستانی قوم ایران کے ساتھ کھڑی ہے۔جو مسلمانوں پر بم برسائے اسے نوبیل انعام کے لیے نامزد کرنا ناقابلِ فہم ہے ۔ان خیالات کااظہارانہوں نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔انہوں نے کہا کہ امریکا اور اسرائیل کی کارروائیوں کے خلاف مسلم امہ کومتحدہوناہوگا۔

صدر ٹرمپ نے 8 مرتبہ غزہ میں جنگ بندی کی قراردادوں کو مسترد کیا ہے۔امریکی حملے اقوام متحدہ کے چارٹر کی سنگین خلاف ورزی اور ایک خطرناک اضافہ ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ یہ قدم انسانیت کو ایک ایسے بحران میں دھکیلتا ہے جس کے نتائج ناقابل واپسی ہوسکتے ہیں۔اگر یہ صورتحال یونہی بڑھتی رہی تو اس کے نہایت تباہ کن نتائج مرتب ہوں گے، جو صرف اس خطے تک محدود نہیں رہیں گے۔ شہری جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنانا ضروری ہے، اور تمام فریقین فوری طور پر جنگ بندی کریں۔ تمام اقوام کو بین الاقوامی قانون، خصوصاً بین الاقوامی انسانی قوانین کی پابندی کرنی چاہیے، خطے میں بحران کا حل صرف اور صرف اقوام متحدہ کے چارٹر کے اصولوں اور مقاصد کے مطابق مکالمے اور سفارت کاری کے ذریعے ہی ممکن ہے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button