تازہ ترین
نیٹکو قومی ادارہ ،منافع بخش بنانے کے لیے حکومت ہر ممکن تعاون فراہم کرے گی، جسٹس (ر)یار محمد گلگت یوتھ کے مختلف صدور نے غیر قانونی شناختی کارڈ ، ڈومیسائل ،پاسپورٹ اجرا کی تحقیقات کیلئے نگران وز... گلگت کنوداس کلین ڈرنکنگ واٹر سپلائی منصوبہ 9سال سے مکمل نہ ہو سکا، لاگت 85 تک پہنچ گئی، عوام کا اظہا... (ن) لیگ گلگت بلتستان میں اہم پیشرفت، پارٹی کے اندرونی اختلافات ختم گلگت میونسپل حدود میں غیر قانونی تجاوزات کے خلاف بھرپور کریک ڈاؤن، دکانیں، فٹ پاتھ اور چار دیواریاں ... چپورسن زلزلہ متاثرین کیلئے ونٹرائزڈ ٹینٹس، فوڈ پیکس اور امدادی سامان روانہ، سڑک ایمرجنسی بنیادوں پر ... گلگت بلتستان کی لیڈر شپ کی بھی کشمیری حریت یاسین ملک سے اظہاریکجہتی، پھانسی دیئے جانے کی کوششوں پراظ... ’بابر اعظم کو ناک آؤٹ میچ نہیں کھلانا چاہیے‘ بنگلادیشی بورڈ نے اہم اجلاس طلب کرلیا، بھارت جانے سے متعلق کھلاڑیوں سے رائے لی جائیگی ٹی 20 ورلڈ کپ: پی سی بی کا آئی سی سی کو خط، کی بنگلہ دیش کے موقف کی حمایت
Uncategorized

سپریم کورٹ ججز کی تعداد میں اضافے کا ترمیمی بل ایوان میں پیش

سپریم کورٹ ایکٹ 1997 میں ترمیم کا بل ایوان میں پیش کر دیا گیا اس بل میں عدالت عظمیٰ میں ججز کی تعداد 17 سے بڑھا کر 23 کرنے کی تجویز ہے۔

قومی اسمبلی میں سپریم کورٹ ایکٹ 1997 میں ترمیم کا بل ایوان میں پیش کر دیا گیا۔ یہ بل حکومتی رکن قومی اسمبلی دانیال چوہدری نے پیش کیا، جس میں عدالت عظمیٰ میں ججز کی تعداد 17 سے بڑھا کر 23 کرنے کی تجویز ہے۔

اعلیٰ عدلیہ سے متعلق 1997 ایکٹ میں ترمیم کے ذریعے ججز کی تعداد بڑھائی جائے گی اور بل کے مندرجات کے مطابق ججز کی تعداد میں اضافہ کیسز بیک لاگ کے باعث ضروری ہے۔

بل کے متن میں کہا گیا ہے کہ ججز کی تعداد میں اضافے سے کیسز کی بر وقت سماعت اور فیصلوں کو یقینی بنایا جا سکے گا۔ سائبر کرائم، ماحولیاتی قوانین، عالمی تجارت کے کیسز میں ماہرین کی ضرورت ہے اور مختلف شعبوں میں مہارت والے ججز کی تقرری سے درست فیصلہ سازی ہو سکے گی۔

ترمیمی بل میں کہا گیا ہے کہ ججز کی تعداد بڑھانے سے کسی جج پرغیر ضروری دباؤ میں کمی ہو گی۔

حکومت کی جانب سے بل پر اعتراض نہیں کیا گیا، تاہم اپوزیشن اتحاد کے رہنما محمود خان اچکزئی کی جانب سے اس بل پر اعتراض کیا گیا اور ساتھ ہی ایوان میں کورم پورا نہ ہونے کی نشاندہی کی تاہم جب اراکین کی گنتی کی گئی تو ایوان میں کورم پورا تھا۔

وزیر اطلاعات کی جانب سے مذکورہ بل کو مزید کارروائی کے لیے کمیٹی کو بھیجنے کی حمایت کی گئی جس کے بعد بل کو متعلقہ کمیٹی کے سپرد کر دیا گیا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button