گلگت کنوداس کلین ڈرنکنگ واٹر سپلائی منصوبہ 9سال سے مکمل نہ ہو سکا، لاگت 85 تک پہنچ گئی، عوام کا اظہار تشویش

گلگت کنوداس کلین ڈرنکنگ واٹر سپلائی منصوبہ گزشتہ 9برس گزرنے کے باوجود تاحال مکمل نہ ہو سکا،منصوبے کی ابتدائی لاگت 19کروڑ روپے تھی جو بڑھتے بڑھتے 85 کروڑ روپے تک جا پہنچی عوام میں تشویش کی لہردوڑ گئی۔سوشل ویلفیئر اینڈ ڈویلپمنٹ آرگنائزیشن کنوداس گلگت کے صدر (ر)محمد عیسی حلیم نے ڈی جی جی ڈی اے گلگت کو تحریری درخواست دیتے ہوئے موقف اختیار کیا ہے کہ یہ منصوبہ عوامی فلاح کے لیے نہایت اہم ہے، مگر اس کی تکمیل میں غیر ضروری تاخیر اور ناقص معیار نے عوام کو مایوسی ، بے چینی اور غم و غصے میں مبتلا کر دیا ہے۔انہوں نے بتایا کہ کنوداس کے عوام آج بھی دریا کا گدلا اور مضرِ صحت پانی پینے پر مجبور ہیں . جبکہ نمائندہ سماجی تنظیم کی جانب سے بھرپور تعاون کے باوجود جی ڈی اے کی جانب سے کام کی رفتار اور معیار پر خاطر خواہ توجہ نہیں دی گئی۔
درخواست میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ منصوبے کو ٹینڈر ڈاکومنٹس کے مطابق فوری طور پر مکمل کیا جائے اور عوامی مشکلات میں مزید اضافہ کرنے کے بجائے عملی اقدامات یقینی بنائے جائیں۔بصورت دیگر، کنوداس کی نمائندہ سماجی تنظیم اور عوام علاقہ اپنے جائز اور قانونی حقوق کے حصول کے لیے ہر ممکن قدم اٹھانے پر مجبور ہوں گے . درخواست کی نقول وزیر اعلی گلگت بلتستان، چیف سیکریٹری، ایڈیشنل چیف سیکریٹری ، نگران وزیر داخلہ، ڈپٹی کمشنر گلگت اور اسسٹنٹ کمشنر گلگت کو بھی ارسال کر دی گئی ہیں۔ ڈرنکنگ واٹر سپلائی منصوبہ گزشتہ نو برس گزرنیکے باوجود تاحال مکمل نہ ہو سکا . جس پر عوامی حلقوں میں شدید تشویش پائی جا رہی ہے۔منصوبے کی ابتدائی لاگت 19 کروڑ روپے تھی، تاہم ذرائع کے مطابق یہ لاگت بڑھتے بڑھتے 85 کروڑ روپے تک جا پہنچی، جس پر شفافیت اور مفادات سے متعلق سنگین سوالات جنم لے رہے ہیں۔ سوشل ویلفئر اینڈ ڈیویلپمنٹ آرگنائزیشن کنوداس (ر) گلگت کے صدر محمد عیسی حلیم نے ڈی جی جی ڈی اے گلگت کو تحریری درخواست دیتے ہوئے مقف اختیار کیا ہے کہ یہ منصوبہ عوامی فلاح کے لیے نہایت اہم ہے، مگر اس کی تکمیل میں غیر ضروری تاخیر اور ناقص معیار نے عوام کو مایوسی، بے چینی اور غم و غصے میں مبتلا کر دیا ہے۔انہوں نے بتایا کہ کنوداس کے عوام آج بھی دریا کا گدلا اور مضرِ صحت پانی پینے پر مجبور ہیں، جبکہ نمائندہ سماجی تنظیم کی جانب سے بھرپور تعاون کے باوجود جی ڈی اے کی جانب سے کام کی رفتار اور معیار پر خاطر خواہ توجہ نہیں دی گئی۔ درخواست میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ منصوبے کو ٹینڈر ڈاکومنٹس کے مطابق فوری طور پر مکمل کیا جائے اور عوامی مشکلات میں مزید اضافہ کرنے کے بجائے عملی اقدامات یقینی بنائے جائیں۔بصورت دیگر، کنوداس کی نمائندہ سماجی تنظیم اور عوام علاقہ اپنے جائز اور قانونی حقوق کے حصول کے لیے ہر ممکن قدم اٹھانے پر مجبور ہوں گے۔ درخواست کی نقول وزیر اعلی گلگت بلتستان، چیف سیکریٹری.، ایڈیشنل چیف سیکریٹری ، نگران وزیر داخلہ ، ڈپٹی کمشنر گلگت اور اسسٹنٹ کمشنر گلگت کو بھی ارسال کر دی گئی ہیں ۔










