گلگت بلتستان کی لیڈر شپ کی بھی کشمیری حریت یاسین ملک سے اظہاریکجہتی، پھانسی دیئے جانے کی کوششوں پراظہارتشویش

عظیم کشمیری حریت پسند یاسین ملک سے یکجہتی میں جی بی کی لیڈر شپ بھی سامنے آگئی ۔سربراہ اہلسنت والجماعت علامہ قاضی نثار ،ممبر قانون ساز اسمبلی نواز خان ناجی ،چئیر مین گلگت بلتستان نیشنل الائنس عنایت للہ شمالی ،امیر جماعت اسلامی تنویر حیدری ،سابق امیر عبد السمیع ،چئیر مین ایکشن کمیٹی و ممبر بار کونسل حسان ایڈووکیٹ ،جموں کشمیر لیبریشن فرنٹ کے قائدین ضیا الحق ،عمران مرزا خان ،انجینئرناصر کپوت قوم پرست نمائندگان شبیر میعار ،شفقت انقلابی ،جاوید حسین سمیت دیگر قائدین نے ان اطلاعات پر تشویش کا اظہار کیا ہے کہ انڈیا مقبول بٹ شہید کے بعد اب یاسین ملک کو پھانسی دینے کی کوشش میں مصروف ہے ۔
الگ الگ بیانات میں رہنمائوں نے موقف اپنایا کہ اقوام متحدہ کی قرار دادوں اور چارٹرڈ کے تحت آزادی کی مانگ کرنا یاسین ملک سمیت سارے حریت پسند وں کا حق ہے جس کو دنیا کی کوئی طاقت روک نہیں سکتی اہل ارض شمال اس جدوجہد کو اس وجہ بھی قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں کیونکہ تقسیم برصغیر کے وقت ہمارے اسلاف کرنل ریٹائرڈ حسن مرزا کیپٹن ریٹائرڈ بابر جیسے قومی ہیروز یہ جنگ مہاراجہ گھنسارہ سنگھ کی شخصی حکومت اور اس کی سپاہ کے خلاف لڑ کر اس کو عبرت ناک انجام سے دوچار کر چکے الگ داستان ہے کہ معائدہ کراچی کے تحت اس کے حاصل سے ارض شمال کو سہولت کاری کے روکا گیا مگر ہم اہل کشمیر کے ساتھ اس جنگ میں چٹان بن کر کھڑے ہیں ہمارا دو ٹوک مطالبہ ہے کہ یاسین ملک سمیت سارے اسیران ہند کو غیر مشروط اور فوری رہا کیا جائے اس مطالبہ کے ساتھ بھارت کو باور کرایا جانا ضروری جانتے ہیں کہ اگر یاسین ملک کو پھانسی دی گئی تو بھارت کے خلاف گلگت بلتستان سے سخت ردعمل سامنے آئے گا ہم یاسین ملک کے اس وجہ بھی ساتھ ہیں کہ اس نے لاہور سے سری نگر تک ڈٹ کر گلگت بلتستان کو صوبہ بنانے کی مخالفت کی اور نواز شریف دور میں سینٹر سرتاج عزیز کی ساری کوششوں کو ناکامی سے دوچار کروایا۔










