تازہ ترین
دریائوں اور آبی ذخائر میں پانی کی آمد و اخراج کے اعدادوشمار گلگت بلتستان میں ترقی اور خوشحالی کا سفر کسی صورت رکنے نہیں دیا جائے گا،انجینئر امیر مقام، خواجہ سعد... گلگت بلتستان میں انتخابی مہم کا فائنل راؤنڈ شروع، بلاول بھٹو اسکردو پہنچ گئے مایہ ناز اتھلیٹ مسعود خان کا نیا ریکارڈ، پشاور تا سکردو 808 کلومیٹر دوڑ 9 دن میں مکمل کرلی ،اہل علاق... گلگت بلتستان میں ایک ہفتے سے لاپتا جاپانی سیاح کی لاش کھائی سے مل گئی پی ٹی آئی نے گلگت بلتستان انتخابات 2026ء سے متعلق اہم سرکلر جاری کر دیا معرکہ حق میں پاکستان کی فتح کا ایک سال مکمل ہونے پر لاہور، پشاور، کراچی، کوئٹہ سمیت ملک بھر میں جگہ ... معرکہ حق میں تاریخی فتح کا ایک سال مکمل ،گلگت میں یادگار شہدا پر پروقار تقریب کا انعقاد گلگت بلتستان انتخابات،خواتین کی مخصوص اور ٹیکنوکریٹس کی نشستوں پر امیدواروں کی حتمی فہرستیں جاری استحکام پاکستان پارٹی نے گلگت بلتستان انتخابات کیلئے امیدواروں کا اعلان کردیا
ضلع گلگت

دیامر کے مزید 10 طلبہ سکالر شپ پر واپڈا کیڈٹ کالج تربیلا میں داخلے کے لئے منتخب

 دیامر کے مزید 10 طلبہ کو اسکالر شپ پر واپڈا کیڈٹ کالج تربیلا میں داخلے کے لئے منتخب کیا ہے۔ ان امیدواروں کا انتخاب تحریری امتحان اور شفاف انٹرویو کے بعد مکمل میرٹ کی بنیاد پر کیا گیا۔گزشتہ سال بھی دیامر کے 10 طلبہ کو کیڈٹ کالج تربیلا میں مکمل اسکالرشپ پر داخلہ دیا گیا تھا۔ مجموعی طور پر دیامر کے 20 طلبہ مکمل اسپانسرڈ اسکالرشپ پر کیڈٹ کالج تربیلا میں پانچ سال، یعنی انٹرمیڈیٹ تک، تعلیم حاصل کریں گے۔ترجمان واپڈا برائے دیامر بھاشا ڈیم کے مطابق ان 20 طلبہ کے سالانہ مجموعی اخراجات تقریباً ایک کروڑ 42 لاکھ روپے بنتے ہیں، جو واپڈا برداشت کرے گا۔واپڈا کی جانب سے فراہم کی جانے والی مفت سہولیات میں ٹیوشن فیس، رہائش، بورڈنگ، یونیفارم، اکیڈمک کٹس، طبی سہولیات اور جامع تعلیمی و تربیتی پروگرام شامل ہیں۔

واپڈا کا یہ اقدام اس بات کا ثبوت ہے کہ مالی مشکلات دیامر کے ہونہار طلبہ کے روشن مستقبل کی راہ میں رکاوٹ نہیں بن سکتیں۔اس منصوبے کے ذریعے دور افتادہ علاقوں کے طلبہ جدید تعلیمی سہولیات سے استفادہ کررہے ہیں۔ بہتر تعلیم کے ساتھ یہی نوجوان مستقبل میں اپنے خاندان، علاقے اور ملک کی ترقی میں فعال کردار ادا کریں گے۔واضح رہے کہ واپڈا نے دیامر میں اعتماد سازی اور تعلیم کے فروغ کے لیے متعدد اقدامات کیے ہیں، جن میں کیڈٹ کالج چلاس کا قیام، تھور میں آرمی پبلک سکول، طلبہ کے لیے ٹیوشن سینٹرز اور داریل و تانگیر میں سرکاری ہائی سکولوں کی اپ گریڈیشن شامل ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button