تازہ ترین
نیٹکو قومی ادارہ ،منافع بخش بنانے کے لیے حکومت ہر ممکن تعاون فراہم کرے گی، جسٹس (ر)یار محمد گلگت یوتھ کے مختلف صدور نے غیر قانونی شناختی کارڈ ، ڈومیسائل ،پاسپورٹ اجرا کی تحقیقات کیلئے نگران وز... گلگت کنوداس کلین ڈرنکنگ واٹر سپلائی منصوبہ 9سال سے مکمل نہ ہو سکا، لاگت 85 تک پہنچ گئی، عوام کا اظہا... (ن) لیگ گلگت بلتستان میں اہم پیشرفت، پارٹی کے اندرونی اختلافات ختم گلگت میونسپل حدود میں غیر قانونی تجاوزات کے خلاف بھرپور کریک ڈاؤن، دکانیں، فٹ پاتھ اور چار دیواریاں ... چپورسن زلزلہ متاثرین کیلئے ونٹرائزڈ ٹینٹس، فوڈ پیکس اور امدادی سامان روانہ، سڑک ایمرجنسی بنیادوں پر ... گلگت بلتستان کی لیڈر شپ کی بھی کشمیری حریت یاسین ملک سے اظہاریکجہتی، پھانسی دیئے جانے کی کوششوں پراظ... ’بابر اعظم کو ناک آؤٹ میچ نہیں کھلانا چاہیے‘ بنگلادیشی بورڈ نے اہم اجلاس طلب کرلیا، بھارت جانے سے متعلق کھلاڑیوں سے رائے لی جائیگی ٹی 20 ورلڈ کپ: پی سی بی کا آئی سی سی کو خط، کی بنگلہ دیش کے موقف کی حمایت
ضلع گلگت

دیامر کے مزید 10 طلبہ سکالر شپ پر واپڈا کیڈٹ کالج تربیلا میں داخلے کے لئے منتخب

 دیامر کے مزید 10 طلبہ کو اسکالر شپ پر واپڈا کیڈٹ کالج تربیلا میں داخلے کے لئے منتخب کیا ہے۔ ان امیدواروں کا انتخاب تحریری امتحان اور شفاف انٹرویو کے بعد مکمل میرٹ کی بنیاد پر کیا گیا۔گزشتہ سال بھی دیامر کے 10 طلبہ کو کیڈٹ کالج تربیلا میں مکمل اسکالرشپ پر داخلہ دیا گیا تھا۔ مجموعی طور پر دیامر کے 20 طلبہ مکمل اسپانسرڈ اسکالرشپ پر کیڈٹ کالج تربیلا میں پانچ سال، یعنی انٹرمیڈیٹ تک، تعلیم حاصل کریں گے۔ترجمان واپڈا برائے دیامر بھاشا ڈیم کے مطابق ان 20 طلبہ کے سالانہ مجموعی اخراجات تقریباً ایک کروڑ 42 لاکھ روپے بنتے ہیں، جو واپڈا برداشت کرے گا۔واپڈا کی جانب سے فراہم کی جانے والی مفت سہولیات میں ٹیوشن فیس، رہائش، بورڈنگ، یونیفارم، اکیڈمک کٹس، طبی سہولیات اور جامع تعلیمی و تربیتی پروگرام شامل ہیں۔

واپڈا کا یہ اقدام اس بات کا ثبوت ہے کہ مالی مشکلات دیامر کے ہونہار طلبہ کے روشن مستقبل کی راہ میں رکاوٹ نہیں بن سکتیں۔اس منصوبے کے ذریعے دور افتادہ علاقوں کے طلبہ جدید تعلیمی سہولیات سے استفادہ کررہے ہیں۔ بہتر تعلیم کے ساتھ یہی نوجوان مستقبل میں اپنے خاندان، علاقے اور ملک کی ترقی میں فعال کردار ادا کریں گے۔واضح رہے کہ واپڈا نے دیامر میں اعتماد سازی اور تعلیم کے فروغ کے لیے متعدد اقدامات کیے ہیں، جن میں کیڈٹ کالج چلاس کا قیام، تھور میں آرمی پبلک سکول، طلبہ کے لیے ٹیوشن سینٹرز اور داریل و تانگیر میں سرکاری ہائی سکولوں کی اپ گریڈیشن شامل ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button