تازہ ترین
نیٹکو قومی ادارہ ،منافع بخش بنانے کے لیے حکومت ہر ممکن تعاون فراہم کرے گی، جسٹس (ر)یار محمد گلگت یوتھ کے مختلف صدور نے غیر قانونی شناختی کارڈ ، ڈومیسائل ،پاسپورٹ اجرا کی تحقیقات کیلئے نگران وز... گلگت کنوداس کلین ڈرنکنگ واٹر سپلائی منصوبہ 9سال سے مکمل نہ ہو سکا، لاگت 85 تک پہنچ گئی، عوام کا اظہا... (ن) لیگ گلگت بلتستان میں اہم پیشرفت، پارٹی کے اندرونی اختلافات ختم گلگت میونسپل حدود میں غیر قانونی تجاوزات کے خلاف بھرپور کریک ڈاؤن، دکانیں، فٹ پاتھ اور چار دیواریاں ... چپورسن زلزلہ متاثرین کیلئے ونٹرائزڈ ٹینٹس، فوڈ پیکس اور امدادی سامان روانہ، سڑک ایمرجنسی بنیادوں پر ... گلگت بلتستان کی لیڈر شپ کی بھی کشمیری حریت یاسین ملک سے اظہاریکجہتی، پھانسی دیئے جانے کی کوششوں پراظ... ’بابر اعظم کو ناک آؤٹ میچ نہیں کھلانا چاہیے‘ بنگلادیشی بورڈ نے اہم اجلاس طلب کرلیا، بھارت جانے سے متعلق کھلاڑیوں سے رائے لی جائیگی ٹی 20 ورلڈ کپ: پی سی بی کا آئی سی سی کو خط، کی بنگلہ دیش کے موقف کی حمایت
Uncategorized

پرائیویٹ اسکولوں کی جانب سے تعلیمی کانفرنس کا انعقاد خوش آئند ہے، وزیراعلیٰ گلگت بلتستان

وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان حاجی گلبر خان نے پرائیویٹ سکولز نیٹ ورک کے زیر اہتمام منعقدہ ایجوکیشنل کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ تعلیمی کانفرنس کا انعقاد خوش آئند ہے۔ انہوں نے کہا کہ تعلیم صرف ایک شعبہ نہیں بلکہ ایک قوم کی بنیاد، اس کی ترقی اور اس کے روشن مستقبل کی ضمانت ہے۔ حصول علم کا مقصد صرف روزگار نہیں ہونا چاہئے۔اسلام میں تعلیم کے حصول کیلئے بہت زیادہ تاکید کی گئی ہے۔ جدید اور معیاری تعلیم کے بغیر مستقبل کے چیلنجز کا مقابلہ کرنا ممکن نہیں۔ یہ کانفرنس اس بات کا ثبوت ہے کہ نجی تعلیمی ادارے ہمارے تعلیمی نظام میں کلیدی کردار ادا کررہے ہیں۔ یہ ادارے نہ صرف حکومت کا بوجھ بانٹ رہے ہیں بلکہ معیاری تعلیم، تربیت یافتہ اساتذہ اور جدید سہولیات کی فراہمی میں بھی نمایاں خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔سرکاری تعلیمی اداروں کو متعدد چیلنجز کا سامنا ہے، ایسے میں نجی تعلیمی ادارے تعلیمی معیار بلند کرنے میں ایک مضبوط ستون بن کر ابھرے ہیں۔ یہی ادارے ایسی نسل تیار کررہے ہیں جو نہ صرف تعلیمی لحاظ سے باصلاحیت ہو بلکہ سماجی، اخلاقی اور قومی اقدار سے بھی مزین ہو۔ ہماری حکومت نجی و سرکاری تعلیمی اداروں کے درمیان ہم آہنگی کو فروغ دینے کیلئے پالیسی سازی میں سنجیدہ ہے۔نصاب میں ہم آہنگی ہو، اساتذہ کی تربیت یکساں معیار پر ہو اور ہر بچے کو یکساں تعلیمی مواقع حاصل ہوں، خواہ وہ کسی بھی سکول میں زیر تعلیم ہو۔ وزیر اعلیٰ نے اساتذہ کو خصوصی خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ اساتذہ علم کی شمع روشن کررہے ہیں، یہ اساتذہ ہی ہیں جو ایک طالب علم کے کردار، سوچ اور مستقبل کی تشکیل کرتے ہیں۔ حکومت نجی تعلیمی اداروں کے ساتھ ہر ممکن تعاون کریں گے اور ان کے جائز مطالبات کو حل کرے گی۔وزیر اعلیٰ نے کہا کہ قراقرم انٹرنیشنل یونیورسٹی میں گزشتہ کئی سالوں سے فیسوں میں اضافے کی وجہ سے طالب علم احتجاج کرتے تھے اس مسئلے کو مستقل بنیادوں پر حل کرنے کیلئے بلتستان یونیورسٹی اور قراقرم انٹرنیشنل یونیورسٹی کیلئے انڈومنٹ فنڈ قائم کیا گیا ہے۔ ہماری حکومت کی اولین ترجیح شروع دن سے تعلیم کا شعبہ رہاہے۔ اسی لئے سب سے زیادہ ایجوکیشن سٹیئرنگ کمیٹی کے اجلاس منعقد ہوئے ہیں جس میں تعلیم کے حوالے سے درپیش مسائل کو بروقت حل کیا گیا ہے اور نئے اصلاحات متعارف کرائے گئے ہیں جس کے دور رس نتائج سامنے آئیں گے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button