تازہ ترین
نیٹکو قومی ادارہ ،منافع بخش بنانے کے لیے حکومت ہر ممکن تعاون فراہم کرے گی، جسٹس (ر)یار محمد گلگت یوتھ کے مختلف صدور نے غیر قانونی شناختی کارڈ ، ڈومیسائل ،پاسپورٹ اجرا کی تحقیقات کیلئے نگران وز... گلگت کنوداس کلین ڈرنکنگ واٹر سپلائی منصوبہ 9سال سے مکمل نہ ہو سکا، لاگت 85 تک پہنچ گئی، عوام کا اظہا... (ن) لیگ گلگت بلتستان میں اہم پیشرفت، پارٹی کے اندرونی اختلافات ختم گلگت میونسپل حدود میں غیر قانونی تجاوزات کے خلاف بھرپور کریک ڈاؤن، دکانیں، فٹ پاتھ اور چار دیواریاں ... چپورسن زلزلہ متاثرین کیلئے ونٹرائزڈ ٹینٹس، فوڈ پیکس اور امدادی سامان روانہ، سڑک ایمرجنسی بنیادوں پر ... گلگت بلتستان کی لیڈر شپ کی بھی کشمیری حریت یاسین ملک سے اظہاریکجہتی، پھانسی دیئے جانے کی کوششوں پراظ... ’بابر اعظم کو ناک آؤٹ میچ نہیں کھلانا چاہیے‘ بنگلادیشی بورڈ نے اہم اجلاس طلب کرلیا، بھارت جانے سے متعلق کھلاڑیوں سے رائے لی جائیگی ٹی 20 ورلڈ کپ: پی سی بی کا آئی سی سی کو خط، کی بنگلہ دیش کے موقف کی حمایت
ضلع گلگت

گلگت حکومت نے قلیل مدت میں وہ کام سر انجام دیئے ہیں جو گزشتہ 75سالوں میں ممکن نہ ہو سکے، ایمان شاہ، فیض اللہ فراق

معاون خصوصی اطلاعات وزیراعلی گلگت بلتستان ایمان شاہ اور ترجمان فیض اللہ فراق نے مشترکہ پریس کانفرنس میں وزیر اعلی گلگت بلتستان حاجی گلبر خان کی قیادت کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ موجودہ حکومت نے قلیل مدت میں وہ کام سر انجام دیے ہیں جو گزشتہ 75 سالوں میں ممکن نہ ہو سکے۔انہوں نے کہا کہ پچھلی حکومتوں نے عوامی مفاد کے منصوبوں کو پس پشت ڈال دیا تھا، خاص طور پر ہیلتھ انڈومنٹ فنڈ کو محدود کر دیا گیا تھا۔حاجی گلبر خان کی حکومت نے اس فنڈ کو بحال کر کے ایک ارب روپے تک بڑھا دیا تاکہ غریب اور مستحق افراد کو بروقت علاج میسر آ سکے۔پریس کانفرنس میں بتایا گیا کہ حکومت کو آغاز سے ہی ہڈوو واقعے جیسے بڑے چیلنجز کا سامنا رہا، مگر وزیر اعلی کی مدبرانہ قیادت اور اداروں کے باہمی تعاون سے امن و امان کو یقینی بنایا گیا۔

ویڈیو اسکینڈل اور گندم بحران جیسے حساس مسائل کو بھی پرامن اور مثر حکمت عملی سے نمٹایا گیا۔گندم کی تقسیم میں شفافیت لانے کے لیے پانچ کروڑ روپے کی لاگت سے ڈیجیٹائزڈ نظام متعارف کرایا گیا، جس سے کرپشن میں نمایاں کمی آئی اور حقداروں کو ان کا حق ملا۔حکومت کی جانب سے لینڈ ریفارمز کے تاریخی اقدام کا ذکر کرتے ہوئے بتایا گیا کہ خالصہ سرکار کے متنازعہ قوانین کو ختم کر کے عوام کو ان کی زمینوں کا قانونی مالک بنا دیا گیا۔ لینڈ ریفارمز بل کو اسمبلی سے منظور کر کے باقاعدہ قانون کی صورت دی گئی، جو دہائیوں پر محیط عوامی مطالبے کی تکمیل ہے۔معدنی وسائل کے حوالے سے حکومت نے صرف چھ ماہ میں وہ ریونیو اکٹھا کیا جو گزشتہ کئی دہائیوں میں ممکن نہ ہو سکا۔ سرکاری افسران کی جانب سے غیر قانونی گاڑیوں کے استعمال اور فیول اخراجات پر پابندی لگا کر سالانہ 25 سے 30 کروڑ روپے کی بچت کی گئی۔وفاقی وزرا کی طرف سے لگائے گئے الزامات کو رد کرتے ہوئے ایمان شاہ نے کہا کہ اتنے بے بنیاد اور جھوٹے الزامات پڑھ کر شرم آتی ہے۔ اگر کسی کو شکایت ہے تو وہ میدان میں آئے اور عوامی مینڈیٹ حاصل کرے، عوام خود بہتر فیصلہ کریں گے۔پریس کانفرنس میں انہوں نے مزید کہا کہ موجودہ حکومت اپنی آئینی مدت پوری کرے گی اور گلگت بلتستان کی ترقی و خوشحالی کے لیے عملی اقدامات جاری رکھے گی ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button