مصطفی کمال کا گلگت بلتستان کا دورہ ،انسدادِ پولیو اقدامات کا جائزہ لیا ،سٹیک ہولڈرز سے ملاقاتیں

وفاقی وزیرِ صحت سید مصطفی کمال نے وزیراعظم پاکستان کی خصوصی ہدایت پر گلگت بلتستان کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے حالیہ پولیو کیس کے تناظر میں انسدادِ پولیو اقدامات کا جائزہ لیا اور اہم اسٹیک ہولڈرز سے ملاقاتیں کیں۔ ان کے ہمراہ وزیراعظم کی فوکل پرسن برائے انسدادِ پولیو، محترمہ عائشہ رضا فاروق بھی موجود تھیں۔وفاقی وزیرِ صحت نے گلگت بلتستان کے ضلع دیامر میں رواں برس سامنے آنے والے پہلے پولیو کیس پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ملک کے کئی اضلاع میں پولیو وائرس کی موجودگی باعثِ تشویش ہے۔ آج ہماری نہایت اہم ملاقاتیں ہوئیں جن میں انسدادِ پولیو کے حوالے سے جامع مشاورت کی گئی۔” انہوں نے ایک پریس کانفرنس کے دوران انسدادِ پولیو کی موجودہ صورتِ حال، درپیش چیلنجز اور آئندہ کے لائحہ عمل پر میڈیا کو بریفنگ دی۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں وہی مثر اور محفوظ ویکسین استعمال ہو رہی ہے، جو یورپ، چین، امریکہ اور دنیا کے دیگر تمام ممالک، بشمول مسلم ممالک، میں پولیو کے خاتمے کے لیے استعمال کی جا چکی ہے۔.سید مصطفی کمال نے بتایا کہ افغانستان میں اس وقت وسیع پیمانے پر انسدادِ پولیو مہم جاری ہے، اور طالبان کی حکومت گھر گھر جا کر بچوں کو پولیو کے قطرے پلا رہی ہے۔انہوں نے والدین سے اپیل کی کہ وہ منفی پروپیگنڈے کو مسترد کریں اور ہر بار بچوں کو پولیو کے قطرے پلوا کر ان کا مستقبل محفوظ بنائیں۔ "خدارا! بچوں سے دشمنی نہ کریں، یہی بچے کل آپ کا سہارا بنیں گے۔ ہر گلی، محلے، گاں اور قصبے کا ہر فرد پولیو کے خلاف جنگ میں شریک ہو۔” انہوں نے کہا کہ جب تک کمیونٹی کا شعور نہیں بڑھے گا، وائرس کے پھیلا کو روکنا ممکن نہیں۔ وفاقی وزیرِ صحت نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وفاقی حکومت، صوبائی انتظامیہ اور شراکت دار اداروں کے ساتھ مل کر ملک بھر میں انسدادِ پولیو مہمات کو مزید مثر بنایا جائے گا تاکہ پاکستان کو پولیو سے مکمل طور پر پاک کیا جا سکے











