دشمن نے گلگت بلتستان پر حملہ کیا تو ہماری کیاں تیاریاں ہیں،اپوزیشن لیڈر

اپوزیشن لیڈر کاظم میثم نے گلگت بلتستان اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت کی طرف سے بزدلانہ حملے کے نتیجے میں پاکستان کی مسلح افواج نے جس طریقے سے منہ توڑ جواب دیا ہے وہ تاریخ میں یاد رکھا جائے گا۔ انہوں نے کہا ہے ہماری سیاسی اختلافات اپنی جگہ لیکن آج الگ الگ قراردادوں کے بجائے ایک مشترکہ قرارداد آنی چاہئے تھی۔ انہوں نے کہا ہے کہ ہم پاکستان کے حکمرانوں سے سخت مایوس اس وقت ہوا جب گجرات کے قصائی نریندر مودی کو اس کی زبان میں جواب نہیں دیا گیا۔ میں ان سیاسی قائدین سے بھی مایوس ہوا جو مودی کا نام تک نہ لے سکے۔ میری مایوسی کی انتہا اس وقت ہوئی جب عالمی میڈیا پر پاکستان کے وزیر خارجہ خواجہ آصف نے پاکستان پر دہشت گردوں کی پشت پناہی کا الزام لگایا۔ انڈیا کو اس کی زبان میں ایک ہی سیاسی شخصیات جواب دے سکتا تھا جس کو آپ نے جیل میں رکھا ہے۔ انہوں نے مزید کہا ہے کہ قوم یہ مت سمجھے کہ جنگ بندی ہوچکی ہے انڈیا کو جو زخم لگ چکا ہے اس کا بدلہ لینے کے لئے تڑپ رہا ہے۔ 1971 میں بھی امریکہ کے کہنے پر بحری بیڑے اچکے تھے اور آج بھی امریکہ کے کہنے پر جنگ بندی ہوئی ہے۔ یہ جنگ دوسرے فیز میں داخل ہوچکی ہے۔ اس دوسرے فیز کے لئے ہم سب نے تیاری کرنی ہے۔ انہوں نے احسان ایڈووکیٹ ، شبیر مایار اور دیگر کی گرفتاری پر بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ جب آپ جنگ کی تیاری کررہے ہو تو پھر اپنوں کے ساتھ محاذ نہیں کھولتے ۔ وزیر داخلہ یہاں نفرتیں مت پھیلائیں لوگوں کو ساتھ ملائیں بے شک حقوق کی تحریکیں چلتی رہیں۔ انہوں نے وزیر داخلہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ گلگت بلتستان کے عوام کو تڑیاں مت دیں ماضی میں بھی اس کرسی پر بیٹھ کر ایک بندہ تڑیاں دیتا تھا جو آج زلیل وخوار ہے۔ انہوں نے کہا ہے خدا نخواستہ اگر گلگت بلتستان میں حملے ہوتے ہیں تو ہماری کیا تیاریاں ہیں۔ بطور حکمران ہمیں سب کو ساتھ ملاکر اس ابدی دشمن سے نمٹنے کی ضرورت ہے











