تازہ ترین
حقِ خودارادیت کیلئے کشمیریوں کی جدوجہد ایک دن ضرور رنگ لائے گی،وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان حقِ خودارادیت کیلئے کشمیریوں کی جدوجہد ایک دن ضرور رنگ لائے گی،وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان حقِ خودارادیت کیلئے کشمیریوں کی جدوجہد ایک دن ضرور رنگ لائے گی،وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان تنازعہ جموں و کشمیر کا حل جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کی ضمانت ہے،نگران وزیراعلی گلگت بلتستان نیٹکو قومی ادارہ ،منافع بخش بنانے کے لیے حکومت ہر ممکن تعاون فراہم کرے گی، جسٹس (ر)یار محمد گلگت یوتھ کے مختلف صدور نے غیر قانونی شناختی کارڈ ، ڈومیسائل ،پاسپورٹ اجرا کی تحقیقات کیلئے نگران وز... گلگت کنوداس کلین ڈرنکنگ واٹر سپلائی منصوبہ 9سال سے مکمل نہ ہو سکا، لاگت 85 تک پہنچ گئی، عوام کا اظہا... (ن) لیگ گلگت بلتستان میں اہم پیشرفت، پارٹی کے اندرونی اختلافات ختم گلگت میونسپل حدود میں غیر قانونی تجاوزات کے خلاف بھرپور کریک ڈاؤن، دکانیں، فٹ پاتھ اور چار دیواریاں ... چپورسن زلزلہ متاثرین کیلئے ونٹرائزڈ ٹینٹس، فوڈ پیکس اور امدادی سامان روانہ، سڑک ایمرجنسی بنیادوں پر ...
ضلع گلگت

وکلا کے مسائل کا فوری حل ناگزیر،چیف جسٹس

چیف جسٹس چیف کورٹ گلگت بلتستان جسٹس علی بیگ سے وزیر قانون غلام محمد نے ملاقات کی۔ اس موقع پر رجسٹرار چیف کورٹ غلام عباس چوپا، سیکریٹری قانون سجاد حیدر اور ڈپٹی سیکریٹری قانون شفیق الرحمن بھی موجود تھے۔ملاقات کے دوران سیکریٹری قانون سجاد حیدر نے وکلا کی جانب سے پیش کیے گئے چارٹر آف ڈیمانڈز پر تفصیلی بریفنگ دی۔ چیف جسٹس نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کسی بھی پرامن اور منصف معاشرے کا قیام عدل و انصاف سے مشروط ہے۔ معاشرے میں انصاف کے نظام کو مستحکم بنانے کے لیے بار اور بینچ کا باہمی تعاون ناگزیر ہے۔ عوام کو بروقت اور شفاف انصاف کی فراہمی میں وکلا اور عدلیہ کا یکساں کردار ہوتا ہے۔انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان کے وکلا کو درپیش مسائل کا فوری حل ناگزیر ہے، کیونکہ وکلا کی جانب سے عدالتی کارروائیوں کے بائیکاٹ اور ہڑتالوں سے نظامِ عدل بری طرح متاثر ہوتا ہے، جس کا براہ راست اثر عام شہریوں پر پڑتا ہے۔ شہریوں کے جان و مال کا تحفظ اور انہیں ایک پرامن ماحول میں انصاف کی فراہمی ریاست کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ وکلا معاشرے کا ایک نہایت اہم ستون ہیں، اس لیے ان کے جائز مطالبات کا حل حکومت کی ترجیحات میں شامل ہونا چاہیے۔وزیر قانون غلام محمد نے اس موقع پر چیف جسٹس کو یقین دہانی کرائی کہ حکومت گلگت بلتستان میں عدل و انصاف کے نظام کو بہتر بنانے کے لیے تمام تر وسائل بروئے کار لا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وکلا کے مسائل کے حل کے لیے حکومت سنجیدگی سے اقدامات کر رہی ہے، اور وزیر اعلی گلگت بلتستان کی آئندہ گلگت آمد پر وکلا برادری کے مطالبات پر پیش رفت متوقع ہیسیکریٹری قانون سجاد حیدر نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ گلگت بلتستان کی عدالتوں میں ججز کی تقرری کا معاملہ فی الحال سپریم کورٹ آف پاکستان میں زیرِ سماعت ہے، جس کے باعث یہ معاملہ التوا کا شکار ہے اور اس کا حل عدالتی فیصلے سے مشروط ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ “وکلا پروٹیکشن ایکٹ 2023” کی گلگت بلتستان میں توسیع کے لیے سمری جی بی کونسل کے ذریعے متعلقہ حکام کو ارسال کر دی گئی ہے اور منظوری کے بعد اس کا اطلاق ممکن ہو جائے گا۔ وکلا کے لیے 30 لاکھ روپے کی گرانٹ اور انڈومنٹ فنڈ کے قیام کی اصولی منظوری بھی دے دی گئی ہے، جسے آئندہ کابینہ اجلاس میں حتمی منظوری کے لیے پیش کیا جائے گا۔محکمہ قانون میں 7 ڈسٹرکٹ اٹارنی، 7 ڈپٹی ڈسٹرکٹ اٹارنی اور 4 اسسٹنٹ پبلک پراسیکیوٹرز کی خالی آسامیوں کو فیڈرل پبلک سروس کمیشن کے ذریعے پر کرنے کے لیے باقاعدہ ریکوزیشن ارسال کی جا چکی ہے۔ اس ضمن میں ڈپٹی سیکریٹری قانون کو فوکل پرسن مقرر کیا گیا ہے تاکہ وہ تقرریوں کے عمل کی مسلسل نگرانی کریں۔رجسٹرار چیف کورٹ کی سفارشات کی روشنی میں گلگت بلتستان میں خصوصی عدالتوں کے قیام کے لیے آسامیوں کی تخلیق و منظوری کے احکامات بھی وزیر اعلی کی جانب سے جاری کیے جا چکے ہیں۔ اسی طرح، ڈپٹی ایڈووکیٹ جنرل اور ڈپٹی پبلک پراسیکیوٹر جنرل کی تین تین نئی آسامیوں کی تخلیق کے لیے بھی سفارشات ارسال کی گئی ہیں۔سیکریٹری قانون نے اختتام پر کہا کہ وکلا کے چارٹر آف ڈیمانڈز پر حکومت انتہائی سنجیدگی سے عمل پیرا ہے اور امید ہے کہ وکلا کے مسائل بہت جلد حل کر لیے جائیں گے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button