تازہ ترین
نیٹکو قومی ادارہ ،منافع بخش بنانے کے لیے حکومت ہر ممکن تعاون فراہم کرے گی، جسٹس (ر)یار محمد گلگت یوتھ کے مختلف صدور نے غیر قانونی شناختی کارڈ ، ڈومیسائل ،پاسپورٹ اجرا کی تحقیقات کیلئے نگران وز... گلگت کنوداس کلین ڈرنکنگ واٹر سپلائی منصوبہ 9سال سے مکمل نہ ہو سکا، لاگت 85 تک پہنچ گئی، عوام کا اظہا... (ن) لیگ گلگت بلتستان میں اہم پیشرفت، پارٹی کے اندرونی اختلافات ختم گلگت میونسپل حدود میں غیر قانونی تجاوزات کے خلاف بھرپور کریک ڈاؤن، دکانیں، فٹ پاتھ اور چار دیواریاں ... چپورسن زلزلہ متاثرین کیلئے ونٹرائزڈ ٹینٹس، فوڈ پیکس اور امدادی سامان روانہ، سڑک ایمرجنسی بنیادوں پر ... گلگت بلتستان کی لیڈر شپ کی بھی کشمیری حریت یاسین ملک سے اظہاریکجہتی، پھانسی دیئے جانے کی کوششوں پراظ... ’بابر اعظم کو ناک آؤٹ میچ نہیں کھلانا چاہیے‘ بنگلادیشی بورڈ نے اہم اجلاس طلب کرلیا، بھارت جانے سے متعلق کھلاڑیوں سے رائے لی جائیگی ٹی 20 ورلڈ کپ: پی سی بی کا آئی سی سی کو خط، کی بنگلہ دیش کے موقف کی حمایت
پاکستانضلع گلگت

عید کے بعد کسی غیر مقامی ملازم کو برداشت نہیں کریں گے، سربراہ ڈیم کمیٹی

دیامر بھاشا ڈیم کمیٹی کے حقوقِ دو ڈیم بناو تحریک کے 35 دن مکمل ہوگئے۔علما دیامر گونر فارم کے بعد داریل میں تربیتی نشست مکمل کرکے چلاس پہنچ گئے۔علما کی کمیٹی کاداریل پہنچنے پر عوام داریل نے شاندار استقبال کیا اور بڑا جلسہ منعقد ہوا۔جلسے میں مولانا فرمان ولی نے علما دیامر کو خوش آمدید کہا اور ڈیم متاثرین کیساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے جانی مالی تعاون کا اعلان کردیا۔سربراہ ڈیم کمیٹی مولانا حضرت اللہ نے جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ واپڈا اور حکومت کی بے حسی کی وجہ سے متاثرین نے انتہائی قدم اٹھانے کا فیصلہ کیا ہے اب حقوق لئے بغیر پیچھے نہیں ہٹیں گے۔انہوں نے کہا کہ عید کے بعد کسی غیر مقامی ملازم کو دیامر بھاشا ڈیم اور واپڈا کے دفاتر میں دیکھا گیا تو اس کا ذمہ دار وہ ملازم خود ہوگا۔31نکاتی مطالبات پر عملدرآمد نہ ہونے تک احتجاج جاری رہے گا اور کسی بھی وقت ڈیم ہیڈ ورک پر کام بند کردیا جائیگا اس حوالے سے حکمت عملی ترتیب دی جارہی ہے۔انہوں نے کہا کہ چیف سیکریٹری کی طرف سے چولہوں کی ویریفیکیشن کیلئے بھیجی گئی ٹیمیں جب کسی محلے میں آ جائیں تو ان کی ٹانگیں توڑنے کا حکم دیتا ہوں۔واپڈا اور حکومت نے متاثرین کے زخموں پر نمک پاشی کی ہے اب اس کا خمیازہ جلد واپڈا کو بھگتنا پڑے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button