تازہ ترین
نیٹکو قومی ادارہ ،منافع بخش بنانے کے لیے حکومت ہر ممکن تعاون فراہم کرے گی، جسٹس (ر)یار محمد گلگت یوتھ کے مختلف صدور نے غیر قانونی شناختی کارڈ ، ڈومیسائل ،پاسپورٹ اجرا کی تحقیقات کیلئے نگران وز... گلگت کنوداس کلین ڈرنکنگ واٹر سپلائی منصوبہ 9سال سے مکمل نہ ہو سکا، لاگت 85 تک پہنچ گئی، عوام کا اظہا... (ن) لیگ گلگت بلتستان میں اہم پیشرفت، پارٹی کے اندرونی اختلافات ختم گلگت میونسپل حدود میں غیر قانونی تجاوزات کے خلاف بھرپور کریک ڈاؤن، دکانیں، فٹ پاتھ اور چار دیواریاں ... چپورسن زلزلہ متاثرین کیلئے ونٹرائزڈ ٹینٹس، فوڈ پیکس اور امدادی سامان روانہ، سڑک ایمرجنسی بنیادوں پر ... گلگت بلتستان کی لیڈر شپ کی بھی کشمیری حریت یاسین ملک سے اظہاریکجہتی، پھانسی دیئے جانے کی کوششوں پراظ... ’بابر اعظم کو ناک آؤٹ میچ نہیں کھلانا چاہیے‘ بنگلادیشی بورڈ نے اہم اجلاس طلب کرلیا، بھارت جانے سے متعلق کھلاڑیوں سے رائے لی جائیگی ٹی 20 ورلڈ کپ: پی سی بی کا آئی سی سی کو خط، کی بنگلہ دیش کے موقف کی حمایت
ضلع ہنزہ

ہنزہ میں بلیوانرجی ایل پی جی پروجیکٹ کا افتتاح کردیا گیا۔

ہنزہ : معاون خصوصی برائے اطلاعات گلگت بلتستان ایمان شاہ نے ہنزہ میں بلیو انرجی ایل پی جی پروجیکٹ لانچ کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہنزہ عوام کو ایل پی جی ملک میں اوگرا کے مقرر کردہ نرخوں کے مطابق ملے گی،بلیو انرجی ایل پی جی کے آغاز سے گلیشئر کی صورتحال میں بھی بہتری آئے گی۔

ایمان شاہ نے ہنزہ عوام کو مبارک باد دیتے ہوئے کہا کہ ہنزہ جیسے علاقے میں اس پروجیکٹ کے قیام میں محسن نقوی نے جس طرح ہمارے اوپر احسان کیا یہ کوئی معمولی احسان نہیں اس احسان کا ہنزہ کمیونٹی کی طرف سے میں خصوصی طور ان کا شکریہ ادا کرتا ہوں کہ جنھوں نے ہنزہ عوام کی مشکلات دور کرنے کیلئے ہماری گزارشات و بغیر کسی ڈیمانڈ پر اس پروجیکٹ کا آغاز کیا ۔

انھوں نے کہا کہ اس پروجیکٹ کی اہمیت و افادیت کا اندازہ اس سال پورے ہنزہ اور جی بی میں کلائمیٹ چینج اور گلوبل چینج کی جو بات ہو رہی تھی اس کے اثرات حقیقی طور پر ہمیں دکھائی دئیے۔

انھوں نے کہا کہ میں گزشتہ اپنے 27 سالہ صحافی کریئر کے دوران ہنزہ میں ایل پی جی پروجیکٹ کے حوالے سے متعدد بار ملاقاتیں کرتے رہے اور گزارش کی کہ اس منصوبے پر آپ یہاں جی بی کے اوپر 2 روپے خرچ کریں پاکستان کو 200 روپے کا فائدہ ملے گا۔

انھوں نے کہا کہ ایل پی جی صرف گھریلو ضرورت ہی نہیں بلکہ اس پروجیکٹ کے قیام سے جو پورے گلگت بلتستان کے اندر 7500 کی تعداد میں گلیشئیرز موجود ہیں جس سے پورا پاکستان سیراب ہوتا ہے کے تحفظ میں بھی بہتری آئے گی انھوں نے کہا کہ جس طرح موجودہ صورتحال گلیشئیرز پگھلنے کا عمل شروع ہوا اگر یہ ٹمپریچر اگلے 3 سال تک یہی صورتحال رہی تو یہاں کی کھربوں ڈالر روپے کی جو قیمتی پراپرٹی عوام کی ہے وہ یقینا اگلے 10 سالوں میں ختم ہو جائے گی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button