تازہ ترین
نیٹکو قومی ادارہ ،منافع بخش بنانے کے لیے حکومت ہر ممکن تعاون فراہم کرے گی، جسٹس (ر)یار محمد گلگت یوتھ کے مختلف صدور نے غیر قانونی شناختی کارڈ ، ڈومیسائل ،پاسپورٹ اجرا کی تحقیقات کیلئے نگران وز... گلگت کنوداس کلین ڈرنکنگ واٹر سپلائی منصوبہ 9سال سے مکمل نہ ہو سکا، لاگت 85 تک پہنچ گئی، عوام کا اظہا... (ن) لیگ گلگت بلتستان میں اہم پیشرفت، پارٹی کے اندرونی اختلافات ختم گلگت میونسپل حدود میں غیر قانونی تجاوزات کے خلاف بھرپور کریک ڈاؤن، دکانیں، فٹ پاتھ اور چار دیواریاں ... چپورسن زلزلہ متاثرین کیلئے ونٹرائزڈ ٹینٹس، فوڈ پیکس اور امدادی سامان روانہ، سڑک ایمرجنسی بنیادوں پر ... گلگت بلتستان کی لیڈر شپ کی بھی کشمیری حریت یاسین ملک سے اظہاریکجہتی، پھانسی دیئے جانے کی کوششوں پراظ... ’بابر اعظم کو ناک آؤٹ میچ نہیں کھلانا چاہیے‘ بنگلادیشی بورڈ نے اہم اجلاس طلب کرلیا، بھارت جانے سے متعلق کھلاڑیوں سے رائے لی جائیگی ٹی 20 ورلڈ کپ: پی سی بی کا آئی سی سی کو خط، کی بنگلہ دیش کے موقف کی حمایت
پاکستان

اچھا بولر تھا‘، خواہش کے باوجود گولڈ میڈلسٹ ارشد ندیم نے کرکٹ کیوں چھوڑی؟

پیرس اولمپکس 2024 میں پاکستان کے لیے تاریخ رقم کرنے والے گولڈ میڈلسٹ  ارشد ندیم  کا کہنا ہے کہ ایتھلیٹ  بننے سے قبل  میری خواہش کرکٹر بننے کی تھی اور میں  ایک اچھا بولر بھی تھا۔

جیولین تھرو مقابلے میں گولڈ  میڈل لینے کے بعد انٹرنیشنل میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئےارشد ندیم  نے بتایا کہ میں نے اپنے کیرئیر کا آغاز گاؤں کی سطح پرکیا، پنجاب میں صوبائی سطح پر  کرکٹ کھیلی، ایک اچھا بولر  رہا لیکن کرکٹ میں مواقع  بمشکل  ملنے پر  کرکٹ چھوڑنی پڑی۔

 گفتگو کے دوران ارشد ندیم نے بتایا کہ ایک اچھا فٹبالر  تھا، کبڈی، بیڈمینٹن  بھی کھیلی اور پھر بطور  ایتھیلیٹ  سفر شروع کیا، اس دوران کئی ایونٹس فار تھرو، جرمن تھرو، لانگ جمپ، ہائی جمپ، ٹرپل جمپ، 100 میٹر ریس سمیت مختلف کھیل کھیلے اور پاکستان میں ڈویژن کی سطح پر ایک بہترین ایتھلیٹ رہا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button