گلگت، کارگاہ نالہ میں مائیننگ خونی بن گیا ،دس دنوں کے اندر2نوجوان جان بحق

گلگت کے نواحی علاقے کارگاہ نالہ میں قیمتی پتھر کی کان کنی خونی ثابت ہونے لگی،10روز کے اندر دو نوجوان جاں بحق ہو گئے۔ذرائع کے مطابق گلگت کے قریب کارگاہ نالے میں انتہائی قیمتی نیپرائیٹ کی کان موجود ہے جہاں اس وقت نوپورہ اور بسین کے سینکڑوں نوجوان کان کنی میں مصروف ہیں۔ رواں ماہ کی 13تاریخ کو نوپورہ کا رہائشی احمد نامی نوجوان مائننگ کے دوران پہاڑ سے گر کر جاں بحق ہو گیا تھا جبکہ اتوارکو نوپورہ گاؤں ہی کا محمد سعد عرف بابو ولد گوہر شاہ اسی پہاڑ سے گرنے کے باعث زندگی کی بازی ہار گیا۔ذرائع کے مطابق کارگاہ کے پہاڑ پر موجود نیپرائیٹ کی کان پر جون سے غیر قانونی طور پر کام جاری ہے جبکہ متعلقہ حکام خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔
کان کنی کرنے والے افراد سنگلاخ پہاڑوں پر بغیر حفاظتی آلات اور سرکاری اجازت کے کام کر رہے ہیں جس کے باعث مزید جانی نقصان کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔اطلاعات کے مطابق کان کن اب تک کروڑوں روپے مالیت کا نیپرائیٹ نکال کر مقامی مارکیٹ میں فروخت کر چکے ہیں، جبکہ ایک شخص کو دو من وزنی نیپرائیٹ کا پتھر ملا جس کی قیمت تقریباً پندرہ لاکھ روپے بتائی جا رہی ہے۔ذرائع نے بتایا کہ کارگاہ نالے کے دیگر مقامات پر بھی قیمتی پتھروں کی کان کنی کھلے عام جاری ہے۔ عوامی حلقوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ غیر قانونی کان کنی کا فوری نوٹس لے کر حفاظتی اقدامات یقینی بنائے جائیں تاکہ قیمتی جانوں کے ضیاع کو روکا جا سکے۔











