گلگت بلتستان کے میڈیکل کوٹے پر نومینیشن پالیسی شدید تنقید کی زد میں

پنجاب حکومت کی جانب سے گلگت بلتستان کے لیے مختص میڈیکل نشستوں کے حوالے سے اس سال اختیار کیا گیا طریقہ کار شدید تنقید کی زد میں آ گیا ہے۔ یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز کی جانب سے گلگت بلتستان کے کوٹے پر براہِ راست نامزدگی (نومینیشن) کا عمل سنبھالنے کے بعد طلبہ کو کالج اپ گریڈیشن کے نام پر ایک ادارے سے دوسرے اور بعض صورتوں میں تیسرے اور چوتھے میڈیکل کالج منتقل کیا جا رہا ہے، جس سے طلبہ اور والدین شدید پریشانی کا شکار ہیں۔
ذرائع کے مطابق میرٹ پر پورا اترنے والے طلبہ و طالبات کو بار بار کالج تبدیل کرنے پر مجبور کیا جا رہا ہے، جس سے تعلیمی تسلسل متاثر ہو رہا ہے۔ رہائش، ہاسٹل، سفری اخراجات اور دیگر انتظامی مسائل نے خصوصاً غریب اور متوسط طبقے کے والدین کے لیے صورتحال کو نہایت مشکل بنا دیا ہے۔
اس غیر شفاف عمل کے باعث طلبہ اور والدین ذہنی دباؤ اور بے چینی کا شکار ہیں۔
واضح رہے کہ گزشتہ برسوں میں گلگت بلتستان کے کوٹے پر نامزدگی کا اختیار ڈائریکٹوریٹ آف ایجوکیشن گلگت بلتستان کے پاس تھا، جہاں کالج اپ گریڈیشن طالب علم کی مشاورت اور رضامندی سے کی جاتی تھی۔ تاہم اس سال صوبائی حکومت کی کمزور نمائندگی کے باعث یہ اختیار براہِ راست یو ایچ ایس کو منتقل ہو گیا، جس کے نتائج اب طلبہ اور ان کے خاندان بھگت رہے ہیں۔طلبہ، والدین اور سماجی حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ میڈیکل نومینیشن کا اختیار فوری طور پر یو ایچ ایس سے واپس لے کر پرانے طریقہ کار کے مطابق ڈائریکٹوریٹ آف ایجوکیشن گلگت بلتستان کو منتقل کیا جائے تاکہ فیصلے مقامی سطح پر شفاف انداز میں اور طلبہ کی سہولت کو مدنظر رکھتے ہوئے کیے جا سکیں۔











