وائس چانسلر قراقرم انٹرنیشنل یونیورسٹی کی سربراہی میں کوالٹی ایشورنس پر اہم اجلاس کاانعقاد

قراقرم انٹرنیشنل یونیورسٹی میں کوالٹی ایشورنس کے حوالے سے اہم اعلی سطحی اجلاس منعقد ہوا جس کی صدارت وائس چانسلر کے آئی یو پروفیسر ڈاکٹر عطاء اللہ شاہ نے کی۔اجلاس میں مختلف فیکلٹیز کے ڈینز، ڈائریکٹرز ایڈوانسڈ سٹڈیز، ڈائریکٹر آفس آف ریسرچ، انوویشن اینڈ کمرشلائزیشن ( اورک )، ڈائریکٹر اکیڈمکس اور دیگر سینئر افسران نے شرکت کی۔اجلاس میں ہائر ایجوکیشن کمیشن کے نئے کوالٹی ایشورنس فریم ورک یعنی پاکستان پری سیپٹس، سٹینڈرڈز اینڈ گائیڈ لائنز (پی ایس جی ۔2023 ) پر تبادلہ خیال کیا گیا اوران نئے قومی معیارات کے ساتھ صف بندی اور تیاری کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ یہ فریم ورک نتائج پر مبنی کوالٹی ایشورنس، مسلسل بہتری اور ادارہ جاتی کارکردگی کو بڑھانے پر زور دیتا ہے۔پی ایس جی ۔2023 فریم ورک کے تحت 18 کلیدی معیارات قائم کیے گئے ہیں جن میں گورننس،ادارہ جاتی وسائل،انٹرنلائزیشن،تدریس و سیکھنے کا عمل،فیکلٹی کی تقرری اور ترقی،سٹوڈنٹ سروسز،انسٹیٹیوشنلائزیشن اور انوویشن،انٹرپرینیورشپ اورکوالٹی ایشورنس سسٹم شامل ہیں۔اس پالیسی کا بنیادی مقصد معیاری تعلیم، تحقیق اور انوویشن کے ذریعے قابلِ روزگار اور معاشرے پر مثبت اثرات مرتب کرنے والے گریجویٹس تیار کرنا ہے۔اجلاس کے دوران گفتگو کرتے ہوئے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر عطاء اللہ شاہ نے کوالٹی انہانسمنٹ سیل (کیو ای سی ) کی محنت کی تعریف کی اور کہا کہ ان کی کوششوں سے یونیورسٹی نئے معیارات کی طرف آسانی سے منتقلی کر سکے گی۔ انہوں نے زور دیا کہ یہ اقدامات کےآئی یو کو گلگت بلتستان اور پورے پاکستان میں ایک نمایاں اعلیٰ تعلیمی ادارہ بنانے میں مدد دیں گے۔اجلاس میں انٹرنل کوالٹی سرکل (آئی کیوسی) کی تشکیل پر بھی غور کیا گیا تاکہ کوالٹی پریکٹسز کی مسلسل نگرانی، نفاذ اور بہتری یقینی بنائی جا سکے۔وائس چانسلر نے حال ہی میں وویمن یونیورسٹی ملتان ( ڈبلیو یو ایم ) میں ریویو آف انسٹی ٹیوشنل پرفارمنس اینڈ انہانسمنٹ ( آر آئی پی ای) میں شرکت کے دوران حاصل کردہ اچھی پریکٹسز، مشاہدات اور سفارشات شیئر کیں۔انہوں نے آر آئی پی ای کے اہم پہلوؤں پر روشنی ڈالی جو طلبہ اور ادارہ جاتی ترقی پر مبنی ہیں اور انہیں جامعہ کے کوالٹی ایشورنس اینڈ ایکریڈیٹیشن ( کیو اے اے) سسٹم کو مضبوط کرنے کے لیے اپنانے پر تبادلہ خیال کیا۔یاد رہے کہ یہ اجلاس جامعہ قراقرم کی جانب سے پاکستان کے اعلیٰ تعلیم کے شعبے میں ہائیر ایجوکیشن کے ویژن کے مطابق کوالٹی ایشورنس کو تبدیل کرنے کی طرف ایک فعال قدم ہے جس کا مقصد گریجویٹس کے نتائج کو بہتر بنانا اور قومی ترقی میں ادارے کے کردار کو بلند کرنا ہے۔











