جیلیں محض سزا دینے کی جگہ نہیں بلکہ اصلاح، تربیت اور بحالی کے مراکز ہونی چاہئیں،وزیر داخلہ گلگت

نگران وزیر داخلہ گلگت بلتستان ساجد علی بیگ نے قیدیوں کی اصلاح و بحالی کے عمل کو مثر اور بامقصد بنانے کے لیے ایک اہم اور تاریخی قدم اٹھاتے ہوئے آج گلگت کے معروف اور کامیاب فری لانس ہب کلیبرون (Clibrone) کی انتظامیہ سے ملاقات کی۔ اس ملاقات میں نیشنل کالج آف آرٹس (NCA) گلگت کی انتظامیہ اور سنٹرل جیل گلگت کی انتظامیہ کو بھی خصوصی طور پر مدعو کیا گیا، تاکہ جیلوں کے اندر قیدیوں کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ فنی، تکنیکی اور تخلیقی مہارتیں سکھانے کے عملی امکانات پر تفصیلی اور نتیجہ خیز مشاورت کی جا سکے۔
ملاقات کے دوران اس بات پر تفصیلی غور کیا گیا کہ کس طرح جیل کے قیدیوں کو آئی ٹی، فری لانسنگ، گرافک ڈیزائننگ، ڈیجیٹل اسکلز، ہنر مند دستکاری، آرٹس اینڈ کرافٹس اور دیگر مارکیٹ بیسڈ اسکل سیٹس کی تربیت فراہم کی جا سکتی ہے، تاکہ وہ قید کے دوران ہی باعزت روزگار کے مواقع سے وابستہ ہو سکیں۔
اس موقع پر کلیبرون فری لانس ہب اور این سی اے کی جانب سے تربیتی ماڈیولز، انسٹرکٹرز کی فراہمی اور عملی تربیت کے طریقہ کار پر بھی تجاویز پیش کی گئیں۔
وزیر داخلہ ساجد علی بیگ نے اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جیلیں محض سزا دینے کی جگہ نہیں بلکہ اصلاح، تربیت اور بحالی کے مراکز ہونی چاہئیں۔ ان کا کہنا تھا کہ قیدیوں کو ہنر مند بنانا نہ صرف جرائم کی شرح میں کمی کا باعث بنے گا بلکہ رہائی کے بعد انہیں باعزت روزگار فراہم کر کے دوبارہ معاشرے کا مفید حصہ بنانے میں مدد دے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ حکومت گلگت بلتستان قیدیوں کی فلاح و بہبود اور اصلاح کے لیے ہر ممکن وسائل بروئے کار لائے گی۔
انہوں نے جیل انتظامیہ کو ہدایت کی کہ وہ اس منصوبے پر فوری طور پر قابلِ عمل لائحہ عمل تیار کریں، جبکہ فری لانس ہب کلیبرون اور این سی اے کو ہنر مندانہ تربیت کے آغاز کے لیے تعاون کو مزید مضبوط بنانے کی تلقین کی۔ ملاقات کے اختتام پر اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ جلد ہی اس منصوبے کو عملی شکل دے کر جیلوں کے اندر باقاعدہ اسکل ڈویلپمنٹ پروگرامز کا آغاز کیا جائے گا۔ یہ اقدام قیدیوں کی اصلاح و بحالی کے ساتھ ساتھ ایک خوشحال، پرامن اور باہنر گلگت بلتستان کی جانب ایک مثبت قدم قرار دیا جا رہا ہے، جس سے نہ صرف قیدی بلکہ ان کے خاندان اور پورا معاشرہ مستفید ہوگا –










