تازہ ترین
ضلع گلگت

موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے گلگت بلتستان میں قدرتی آفات میں اضافہ بڑا چیلنج ہے، جسٹس (ر) یار محمد

 نگران وزیر اعلی گلگت بلتستان جسٹس(ر)یار محمد نے کہا ہے کہ موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے گلگت بلتستان میں قدرتی آفات میں اضافہ ہورہاہے جو مستقبل میں بہت بڑا چیلنج ہوگا،ڈیزاسٹرمینجمنٹ اتھارٹی کا محکمہ انتہائی اہمیت کا حامل ہے، ادارے کو مضبوط اور فعال بنانے کیلئے دستیاب وسائل کی فراہمی اور سٹاف کی کمی دور کرنے کیلئے سنجیدگی سے غور کیا جانا چاہئے۔گلگت بلتستان ڈیزاسٹرمینجمنٹ اتھارٹی کی جانب سے دی جانیوالی محکمانہ بریفنگ کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ نگران وزیر اعلی نے کہا کہ قدرتی آفات کی صورت میں بروقت ریسکیو، ریلیف اور بحالی کے حوالے سے جامعہ حکمت عملی وضع ہونی چاہئے۔ تمام اضلاع میں ہیوی مشینری کی دستیابی ضروری ہے تاکہ کسی بھی قدرتی آفت کی صورت میں فوری طور پر امدادی کاموں کا آغاز کیا جاسکے۔نگران وزیر اعلی نے اس موقع پر ہدایت کی کہ گلگت بلتستان ڈیزاسٹرمینجمنٹ اتھارٹی کے ویئر ہاس میں سٹاف کی دستیابی کو یقینی بنایا جائے۔ نگران وزیر اعلی نے پروینشل ایمرجنسی کنٹرول روم کے قیام کو سراہتے ہوئے کہا کہ اس سے بروقت اور موثر انداز میں ریسکیو، ریلیف آپریشن سرانجام دینے میں معاونت ملے گی۔ نگران وزیر اعلی نے گلگت بلتستان میں سیاحتی سیز اور قدرتی آفتوں کے دوران ایف سی این اے کی جانب سے بروقت ریسکیو آپریشنز میں معاونت فراہم کرنے کے اقدام کو سراہتے ہوئے کہا کہ افواج پاکستان نے ہمیشہ مشکل وقت میں تعاون کیا ہے۔نگران وزیر اعلی نے ڈائریکٹر جنرل گلگت بلتستان ڈیزاسٹرمینجمنٹ اتھارٹی کو ہدایت کی کہ قدرتی آفات کی وجہ سے جانی اور مالی نقصانات کے معاوضوں کی ادائیگی پالیسی کے تحت بروقت ہونی چاہئے تاکہ مصیبت اور آزمائش کے موقع پر متاثرین کی باعزت طریقے سے مدد کی جاسکے۔نگران وزیر اعلی نے کہاکہ ایمرجنسی کے تحت بحالی کے کاموں کی ادائیگیاں مکمل طور پر شفاف ہونی چاہئے۔ نگران وزیر اعلی نے آبی گزر گاہوں کو واہ گزار کرانے اور تجاویزات کے خاتمے کیلئے قانون سازی کے اقدام کو سراہا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button