گلگت بلتستان میں قدرتی معدنیات کے وسائل موجود ،جیالوجیکل سروے ،میپ کی عدم موجودگی سے رسائی ممکن نہیں ہوسکی، جسٹس (ر) یار محمد

نگران وزیر اعلی گلگت بلتستان جسٹس (ر)یار محمدنے کہا ہے کہ گلگت بلتستان میں بے پناہ قدرتی معدنیات کے وسائل موجود ہیں لیکن ان معدنیات کی تفصیلی جیالوجیکل سروے اور میپ موجود نہ ہونے کی وجہ سے یہاں کی حقیقی معدنی ذخائر تک رسائی ممکن نہیں ہوسکی۔ محکمہ معدنیات، انڈسٹریز اور کامرس کی جانب سے دیئے جانے والے محکمانہ بریفنگ کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ نگران وزیراعلی نے کہا کہ بین الاقوامی سرمایہ کاروں کو راغب کرنے کیلئے سائنٹفک سروے لازمی ہے جس کے بغیر بین الاقوامی سرمایہ کار معدنیات کے شعبے میں سرمایہ کاری کرنے سے اجتناب کرتے ہیں۔نئی پالیسی کے تحت مائننگ لائسنس کے حصول کے عمل کو آن لائن کرنا خوش آئند ہے جس سے اس عمل میں شفافیت آئے گی۔
معدنی وسائل کے حصول کیلئے مقامی کمیونٹی کے حقوق کا تحفظ لازمی ہے تاکہ مقامی کمیونٹی مکمل تعاون کرنے کیلئے آمدہ ہوسکیں۔ نگران وزیر اعلی نے چائلڈ اینڈ لیبر پالیسی پر من و عن عملدرآمد کرنے کیلئے اقدامات کرنے کی بھی ہدایت کی تاکہ ہمارے نوجوان نسل کو تعلیم حاصل کرنے کا مواقع میسر آئیں۔نگران وزیر اعلی نے کہا کہ انڈسٹریل اور سپیشل اکنامک زون کے قیام کیلئے عملی اقدامات کرنے کی ضرورت ہے تاکہ پرائیویٹ سیکٹر کو گلگت بلتستان میں سرمایہ کاری پر راغب کیا جاسکے۔ پرائیویٹ سیکٹر کو فروغ دینے سے گلگت بلتستان میں روزگار کے نئے مواقع میسر آئیں گے اور تعمیر و ترقی کی نئی راہیں کھلیں گی۔ نگران وزیر اعلی نے کہا کہ وزیر اعظم پاکستان کی جانب سے گلگت بلتستان کے عوام کیلئے پاک چائنہ بارڈر پر ٹیکس میں دی گئی چھوٹ سے استفادہ حاصل کرنے کیلئے محکمہ فوری طورپر اقدامات کرے ۔











