سلمان آغا کو جب کپتان بنایا گیا اس وقت بھی انکی ٹیم میں جگہ نہیں بنتی تھی

سابق ٹیسٹ کرکٹر کامران اکمل نے کہا ہے کہ جب سلمان علی آغا کو ٹی ٹوئنٹی کا کپتان بنایا گیا تو اس وقت بھی اسکی ٹیم میں جگہ نہیں بنتی تھی۔
اے آر وائی نیوز کے اسپورٹس پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے پاکستان کے سابق وکٹ کیپر بیٹر کامران اکمل نے کہا کہ یہ پاکستان کی ٹی ٹوئنٹی کی ٹیم ہے، کپتان بنانے کے وقت بھی سلمان علی آغا کی ٹی ٹوئنٹی ٹیم میں جگہ نہیں بن رہی تھی، جہاں پر اسے کپتان بنانا چاہیے تھا وہاں پر اسے بنایا نہیں۔
کامران اکمل نے سلمان کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ ون ڈے اور ٹیسٹ کا وہ ہمارا بہترین پلیئر ہے لیکن اب بورڈ کے پاس تبدیلی کا وقت نہیں ہے، اب آپ کو سلمان کے ساتھ ہی جانا پڑے گا۔
انھوں نے کہا کہ اگر آپ عین وقت میں کپتان تبدیل کریں گے جیسا کہ 2024 میں کیا تھا تو آپ دیکھ لیں کا اس کا ٹیم کی پرفارمنس پر کتنا اثر پڑا تھا۔
کامران اکمل کا کہنا تھا کہ میرے خیال سے انھیں تبدیل کرنا اب صحیح بھی نہیں ہوگا، انھیں ورلڈکپ تک جانے دینا چاہیے لیکن یہاں پر دیکھنا پڑے گا کہ مینجمنٹ 15، 16 پلیئرز کی کونسی ٹیم بناتی ہے۔
سابق ٹیسٹ کرکٹر نے کہا کہ ٹیم کا کیا کامبی نیشن رکھا جاتا ہے اور وہاں پر اسپنرز کا کیا رول ہوگا، وہاں پر 200 یا 175 رنز ہیں بنیں گے، وہاں پر 140 اور 150 میچ وننگ ٹوٹل ہوگا۔
انھوں نے کہا کہ آپ کے پاس عثمان طارق، سفیان اور ابرار ہے، شاداب فٹ ہوجائے گا وہ اپنی فٹنس دکھائے گا، پھر دیکھتے ہیں کہ یہ کیا کرتے ہیں کتنے اسپنرز اور کتنے فاسٹ بولرز لے کرجاتے ہیں۔
کامران اکمل کا کہنا تھا کہ اب ان ساری چیزوں کی تیاری کرلینی چاہیے اور انھیں حتمی شکل دے دینا چاہیے پھر ہی پتا چل سکتا ہے کہ پاکستانی ٹیم کا کیا کامبی نیشن ہوگا۔











