برٹش کونسل، کے آئی یو اور گلگت بلتستان حکومت کے درمیان خواتین کی آئی ٹی اور ڈیجیٹل مہارتوں کو مضبوط بنانے کے لیے تاریخی معاہدہ پر دستخط

برٹش کونسل،قراقرم انٹرنیشنل یونیورسٹی اور حکومتِ گلگت بلتستان کے درمیان اہم سہ فریقی معاہدے پر دستخط ہوگئے۔ شعبہ تعلقات عامہ کے آئی یو کے مطابق معاہدےکا مقصد علاقے میں خواتین کی آئی ٹی اور ڈیجیٹل مہارتوں کو فروغ دینا ہے۔اس معاہدے کے تحت انسٹی ٹیوٹ آف مینجمنٹ سائنسز (آئی ایم سائنسز) پشاور کو مرکزی ہب کا درجہ دیا گیا ہے جبکہ کے آئی یو اور گلگت بلتستان کے دیگر مقامات پر "سپوک” سینٹرز قائم کیے جائیں گے۔اس پروگرام کے ذریعے گلگت بلتستان اور خیبر پختونخوا سے تعلق رکھنے والی 300 سے زائد نوجوان لڑکیوں کو جدید ڈیجیٹل ٹیکنالوجیز اور ملازمت کے قابل مہارتوں کی تربیت دی جائے گی۔معاہدے پر دستخط کے حوالے سے منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے برٹش کونسل کے کنٹری ڈائریکٹر جیمز ہیمپسن نے اس پروگرام کی اہمیت اجاگر کی اور کہا کہ یہ منصوبہ نوجوان خواتین کو ڈیجیٹل معیشت میں ترقی کرنے اور اپنے معاشروں نیز ملک کی ترقی میں بھرپور حصہ ڈالنے کے قابل بنائے گا۔اس سے قبل قراقرم انٹرنیشنل یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر عطاء اللہ شاہ نےاس شراکت داری کا خیرمقدم کیا اور برٹش کونسل کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے جیمز ہیمپسن اور یورپی کمیشن کے نمائندے کو یونیورسٹی کا دورہ کرنے کی دعوت بھی دی۔وائس چانسلر نے کے آئی یو کے انسٹی ٹیوٹ آف پروفیشنل ڈیولپمنٹ (آئی پی ڈی) کی ملازمت اور کاروباری مہارتوں پر بڑھتی توجہ کو سراہا اور آئی پی ڈی کے ڈائریکٹر ڈاکٹر آفتاب احمد خان کی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کیا کہ انہوں نے ادارے کو منظم بنا کر گلگت بلتستان کے نوجوانوں کو جدید ملازمت کے مواقع فراہم کیے۔سہ فریقی معاہدے پر کے آئی یو کی جانب سے وائس چانسلر،حکومتِ گلگت بلتستان کی جانب سے سیکرٹری ہائر ایجوکیشن فرید احمد نے دستخط کئے۔ اس معاہدے کے تحت کے آئی یو کے آئی پی ڈی میں سینٹر آف ایکسی لینس قائم کرنا بھی شامل ہے جہاں علاقے کے نوجوانوں کے لیے جدید کمپیوٹر لیبارٹریز قائم کی جائیں گی۔تقریب کے اختتام پر یورپی کمیشن کے نمائندے نے معاہدے کے تمام فریقین اور شرکاء کو پراجیکٹ کی یادگاری سووینئرز پیش کیں۔










