جتنے بھی کھلاڑی ہیں وہ اپنی محنت پر یقین رکھیں، بابر اعظم

قومی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان بابر اعظم کا کہنا ہے کہ کرکٹ صرف یقین کا کھیل ہے، جتنے بھی میچز کھیلیں اپنی ٹریننگ پر یقین رکھیں۔
قومی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان بابر اعظم لاہور کے مقامی اسکول کے اسپورٹس گالہ میں شریک ہوئے اور تمام کھلاڑیوں اور ٹیموں کیلیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔
اس موقع پر سابق کپتان کا کہنا تھا کہ جتنے بھی کھلاڑی ہیں وہ اپنی محنت پر یقین رکھیں، صرف یقین کا کھیل ہے، جتنے بھی میچز کھیلیں اپنی ٹریننگ پر یقین رکھیں۔سابق کپتان نے کہا کہ جو بچے اتنا پیار دیتے ہیں اور سپورٹ کرتے ہیں، ان کا شکریہ، ایسی ہی سپورٹ مجھے اور پوری پاکستانی ٹیم کو چاہیے، پاکستان ٹیم اور کرکٹ کو سپورٹ کرنے کی ضرورت ہے۔
دوسری جانب ایشیا کپ فائنل میں پاکستان کی شکست کے بعد حارث رؤف پر تنقید جاری ہے تاہم نامور شخصیت نے ان سے معافی مانگ لی۔ایشیا کپ کے فائنل میچ میں بھارت نے پاکستان کو سنسنی خیز مقابلے کے بعد شکست دے کر نویں بار ٹائٹل جیت لیا۔
ایک موقع پر پاکستانی بولرز کی محنت کی بدولت میچ پر گرین شرٹس کی گرفت مضبوط نظر آ رہی تھی۔ تاہم آخری اوورز میں حارث رؤف کے دو اوورز میں 29 رنز بننے کے باعث بازی پلٹ گئے۔پاکستانی شائقین اس شکست کا ذمہ دار پیسر حارث رؤف کو قرار دے رہے ہیں اور ان کے خلاف سوشل میڈیا پر غم وغصہ کا اظہار کر رہے ہیں۔ ان میں مختلف شعبہ زندگی سے تعلق رکھنے والی مشہور شخصیات بھی شامل ہیں۔
ناقدین کا الزام ہے کہ بھارت کی اچھی پوزیشن کے باوجود آخری اوورز میں حارث رؤف کی جانب سے حریف بلے بازوں کو فراخدلی سے رنز دے کر جیتا ہوا میچ بھارت کو طشتری میں رکھ کر دیا گیا۔شائقین کرکٹ کی جانب سے کڑی تنقید اور میمز تک بنا کر اپنے غم وغصہ کا اظہار کیا گیا۔ تنقید کرنے والوں میں کئی نامور شخصیات میں ایک شوبز سے وابستہ مشہور اداکار بھی شامل ہیں، جنہوں نے اب حارث رؤف سے معافی مانگ لی ہے۔
کئی ٹی وی ڈراموں میں مثبت اور منفی کردار نبھانے والے سید جبران نے بھی ایشیا کپ میں پاکستان کی شکست کے بعد حارث رؤف پر کڑی تنقید کے بعد اب پیسر نے اپنے رویہ پر معافی مانگ لی ہے۔اداکار نے اس کے لیے سوشل میڈیا ایپ کا سہارا لیا اور فوٹو اینڈ ویڈیوز شیئرنگ پلیٹ فارم انسٹا گرام پر حارث رؤف سے معافی مانگ لی ہے۔
انہوں نے انہوں نے اپنے معذرت نامہ میں عوامی سطح پر کہا کہ دوستوں سچ کہوں تو مجھے اگلے روز بہت برا لگا، جب مجھے احساس ہوا کہ میں نے صرف ایک خاص کھلاڑی کے لیے سخت بیان دیا جبکہ حقیقت میں جو کچھ ہوا اس کی ذمہ داری صرف ایک فرد پر نہیں بلکہ پوری ٹیم پر ہے۔سید جبران نے مزید لکھا کہ معذرت، لیکن مجھے لگتا ہے کہ میں ان سے بہتر ہوں۔












