گلگت بلتستان میں سیلابی تباہ کاریاں، 39 افراد جاں بحق، اربوں کے نقصانات

گلگت بلتستان حالیہ بارشوں اور سیلابی ریلوں کی بدترین تباہیوں کی لپیٹ میں ہے،صوبے کے مختلف اضلاع میں عوامی و نجی املاک کو شدید نقصان پہنچا ہے جبکہ ریسکیو، سرچ اور ریلیف آپریشن تواتر کے ساتھ جاری ہیں۔ ترجمان صوبائی حکومت کے مطابق اب تک 39 افراد جاں بحق ہوچکے ہیں جن میں مقامی افراد، سیاح اور رضاکار شامل ہیں جبکہ دو درجن سے زائد افراد زخمی ہوئے ہیں۔ترجمان نے بتایا کہ سیلابی ریلوں سے صوبے میں 25 سے 30 ارب روپے کے مالی نقصانات ہوئے ہیں،1000 سے زائد مکانات متاثر ہوئے جن میں سے 350 مکمل طور پر تباہ جبکہ 600 گھروں کو جزوی نقصان پہنچا ہے، ایک درجن سے زائد مساجد و جماعت خانے اور نصف درجن سے زائد تعلیمی ادارے بھی متاثر ہوئے ہیں۔
سیلابی صورتحال کے باعث 25 کلومیٹر سے زائد رابطہ سڑکیں اور 35 سے زیادہ چھوٹے بڑے پل بہہ گئے ہیں، جس کے باعث کئی علاقوں کا زمینی رابطہ منقطع ہے۔وادی دیامر، استور، غذر، ہنزہ، نگر، بگروٹ، جوتل، دینور، گلمت گوجال اور بلتستان کے اضلاع کھرمنگ، شگر، گانچھے اور استک بدترین متاثرہ علاقوں میں شامل ہیں۔ترجمان صوبائی حکومت فیض اللہ فراق نے بتایا کہ غذر میں گزشتہ جمعرات کو سب سے زیادہ جانی و مالی نقصان ہوا۔ انہوں نے کہا کہ صوبے بھر میں سڑکوں، آبپاشی کے نظام، بجلی اور صاف پانی کی فراہمی کی بحالی پر کام تیزی سے جاری ہے، شاہراہ بابوسر اور شاہراہ بلتستان پر بھی بحالی کے کام شروع کر دیے گئے ہیں۔ترجمان نے مزید کہا کہ حکومت متاثرین کے نقصانات کے ازالے کے لیے تمام وسائل بروئے کار لا رہی ہے اور متاثرہ خاندانوں کو ہر ممکن ریلیف فراہم کیا جائے گا۔











