تازہ ترین
نیٹکو قومی ادارہ ،منافع بخش بنانے کے لیے حکومت ہر ممکن تعاون فراہم کرے گی، جسٹس (ر)یار محمد گلگت یوتھ کے مختلف صدور نے غیر قانونی شناختی کارڈ ، ڈومیسائل ،پاسپورٹ اجرا کی تحقیقات کیلئے نگران وز... گلگت کنوداس کلین ڈرنکنگ واٹر سپلائی منصوبہ 9سال سے مکمل نہ ہو سکا، لاگت 85 تک پہنچ گئی، عوام کا اظہا... (ن) لیگ گلگت بلتستان میں اہم پیشرفت، پارٹی کے اندرونی اختلافات ختم گلگت میونسپل حدود میں غیر قانونی تجاوزات کے خلاف بھرپور کریک ڈاؤن، دکانیں، فٹ پاتھ اور چار دیواریاں ... چپورسن زلزلہ متاثرین کیلئے ونٹرائزڈ ٹینٹس، فوڈ پیکس اور امدادی سامان روانہ، سڑک ایمرجنسی بنیادوں پر ... گلگت بلتستان کی لیڈر شپ کی بھی کشمیری حریت یاسین ملک سے اظہاریکجہتی، پھانسی دیئے جانے کی کوششوں پراظ... ’بابر اعظم کو ناک آؤٹ میچ نہیں کھلانا چاہیے‘ بنگلادیشی بورڈ نے اہم اجلاس طلب کرلیا، بھارت جانے سے متعلق کھلاڑیوں سے رائے لی جائیگی ٹی 20 ورلڈ کپ: پی سی بی کا آئی سی سی کو خط، کی بنگلہ دیش کے موقف کی حمایت
ضلع گلگت

واپڈا، دیامر بھاشا ڈیم پراجیکٹ اور ضلعی انتظامیہ کے اشتراک سے آگاہی سیمینار کا انعقاد

 واپڈا، دیامر بھاشا ڈیم پراجیکٹ اور ضلعی انتظامیہ کے اشتراک سے تھور دیامر میں دریائے سندھ کے کنارے چٹانوں پر موجود تاریخی نقش و نگار کے تحفظ اور آگاہی کے حوالے سے سیمینار کا انعقاد کیا گیا۔ سیمینار میں دریائے سندھ کے کنارے سونے کی تلاش میں مصروف مقامی افراد کے نمائندوں، علمائے کرام ،مقامی عمائدین اور ضلعی انتظامیہ کے حکام نے شرکت کی۔چٹانوں پر موجود نقش و نگار ایک قیمتی قومی ورثہ، ان کا تحفظ قومی فریضہ کے عنوان سے منعقدہ اس سیمینار میں ان مقامات کی نشاندہی کی گئی جہاں نادر اور قیمتی تاریخی نقوش موجود ہیں۔گولڈ پلیسر کے کاروبار سے وابستہ افراد اور مقامی عمائدین کو ان نقش و نگار کی تاریخی اہمیت اور ان کے تحفظ سے متعلق ضروری اقدامات سے آگاہ کیا گیا۔

سیمینار میں ان آثار کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے ایک کمیٹی بھی تشکیل دی گئی، جو ضلعی انتظامیہ اور واپڈا کے تعاون سے اپنا کام جاری رکھے گی۔سیمینار سے ڈائریکٹر کوآرڈینیشن واپڈا رحیم شاہ، اسسٹنٹ کمشنر چلاس علی احمد، ڈیم کمیٹی کے نمائندہ محمد افضل اور گولڈ پلیسر سے وابستہ نمائندوں نے اظہار خیال کیا اور ان نقوش کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے مختلف تجاویز اور اقدامات سے آگاہ کیا۔ سیمینار میں اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ دریائے سندھ کے کنارے موجود تاریخی راک کارونگز کا تحفظ قومی فریضہ ہے اور ان تمام آثار کی مکمل حفاظت کو یقینی بنایا جائے گا۔مزید یہ بھی بتایا گیا کہ اگر اس حوالے سے انتظامیہ کی جانب سے جاری کردہ قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی کی گئی تو قانون کے مطابق سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ واضح رہے کہ واپڈا دیامر بھاشا ڈیم پراجیکٹ نے پراجیکٹ ایریا میں موجود ہزاروں سال پرانے تاریخی نقش و نگار اور ثقافتی ورثے کے تحفظ اور منتقلی کے لیے کلچرل ہیرٹیج منیجمنٹ پلان کے تحت کئی اہم اقدامات اٹھائےہیں۔ اس پلان کے تحت اہم اور تاریخی نقش و نگار کی تھری ڈی اسکیننگ، ان کی منتقلی کے اقدامات، چلاس فورٹ کی بحالی اور چلاس میں میوزیم کا قیام شامل ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button