تازہ ترین
نیٹکو قومی ادارہ ،منافع بخش بنانے کے لیے حکومت ہر ممکن تعاون فراہم کرے گی، جسٹس (ر)یار محمد گلگت یوتھ کے مختلف صدور نے غیر قانونی شناختی کارڈ ، ڈومیسائل ،پاسپورٹ اجرا کی تحقیقات کیلئے نگران وز... گلگت کنوداس کلین ڈرنکنگ واٹر سپلائی منصوبہ 9سال سے مکمل نہ ہو سکا، لاگت 85 تک پہنچ گئی، عوام کا اظہا... (ن) لیگ گلگت بلتستان میں اہم پیشرفت، پارٹی کے اندرونی اختلافات ختم گلگت میونسپل حدود میں غیر قانونی تجاوزات کے خلاف بھرپور کریک ڈاؤن، دکانیں، فٹ پاتھ اور چار دیواریاں ... چپورسن زلزلہ متاثرین کیلئے ونٹرائزڈ ٹینٹس، فوڈ پیکس اور امدادی سامان روانہ، سڑک ایمرجنسی بنیادوں پر ... گلگت بلتستان کی لیڈر شپ کی بھی کشمیری حریت یاسین ملک سے اظہاریکجہتی، پھانسی دیئے جانے کی کوششوں پراظ... ’بابر اعظم کو ناک آؤٹ میچ نہیں کھلانا چاہیے‘ بنگلادیشی بورڈ نے اہم اجلاس طلب کرلیا، بھارت جانے سے متعلق کھلاڑیوں سے رائے لی جائیگی ٹی 20 ورلڈ کپ: پی سی بی کا آئی سی سی کو خط، کی بنگلہ دیش کے موقف کی حمایت
ضلع گلگت

اسکردو،گجرات کے 4 لاپتا سیاحوں کی گاڑی اور لاشیں دریائے سندھ کے قریب سے مل گئیں

گجرات سے تعلق رکھنے والے 4 لاپتا سیاحوں کی گاڑی اور لاشیں بلتستان روڈ پر استک گاؤں کے قریب روندو ویلی، اسکردو میں دریائے سندھ کے کنارے سے مل گئیں۔ریسکیو 1122 کے آپریشنل اہلکار فوری طور پر جائے وقوع پر پہنچے اور مرنے والوں کی لاشیں نکالیں، ریسکیو ایک اہلکار نے بتایا کہ یہ کار اسکردو کی جانب جا رہی تھی، سڑک سے تقریباً 500 فٹ گہری کھائی میں جا گری۔اہلکار کے مطابق گاڑی سڑک سے نیچے دریائے سندھ کے کنارے سے ملی ہے، ریسکیو ٹیم نے جائے وقوع تک رسائی کے لیے رسّیوں کا استعمال کیا اور گاڑی کو اوپر لانے کے لیے ایک کرین کا بندوبست بھی کیا گیا۔یہ 4 سیاح 16 مئی کو گلگت اور اسکردو کے درمیان لاپتا ہو گئے تھے، جن کی تلاش کے لیے سرچ آپریشن جاری تھا۔

https://imasdk.googleapis.com/js/core/bridge3.695.1_en.html#fid=goog_475972930

اہل خانہ کے مطابق 36 سالہ وسیم شہزاد، 20 سالہ عمر احسان دونوں کزنز تھے، جن کا تعلق کوٹ گکّہ نزد منگووال سے تھا، 23 سالہ سلمان نصراللہ سندھو جاسوکی گاؤں سے اور 23 سالہ عثمان ڈار سروکی سے تعلق رکھتے تھے، یہ چاروں دوست 13 مئی کو گلگت پہنچے تھے۔ڈی آئی جی گلگت رینج راجا مرزا حسن نے بتایا کہ پولیس ریکارڈ کے مطابق چاروں دوستوں نے 15 مئی کو ہنزہ سے اسکردو کا سفر شروع کیا تھا، راستے میں وہ گلگت کے دنیور علاقے میں قراقرم کے قریب ایک ہوٹل میں رکے تھے۔چاروں نے 16 مئی کو اسکردو کے لیے اپنا سفر دوبارہ شروع کیا اور تب سے ان کے موبائل فون بند آرہے تھے۔راجا مرزا حسن نے بتایا کہ لاپتا دوستوں کی آخری لوکیشن جگلوٹ، گلگت میں تھی، ان کے منصوبے کے مطابق وہ استک، اسکردو پہنچنا چاہتے تھے، لیکن ہفتے تک ان کا کوئی سراغ نہیں مل سکا تھا۔انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان پولیس اور ریسکیو 1122، جگلوٹ سے استک تک، جگلوٹ-اسکردو روڈ پر مل کر لاپتا دوستوں کو تلاش کر رہے تھے، یہ سڑک دریائے سندھ کے ساتھ ساتھ گزرتی ہے، جہاں ان دنوں پانی کا بہاؤ نہایت خطرناک ہے۔ایک لاپتا نوجوان کے والد نے بتایا کہ ان سے 16 مئی کو آخری بار رابطہ ہوا تھا، انہوں نے گلگت بلتستان حکومت، چیف سیکریٹری اور آئی جی پی سے اپیل کی تھی کہ ان کے بیٹے اور دوستوں کو تلاش کرنے میں مدد کی جائے۔پولیس اور ریسکیو 1122 لاپتا دوستوں کی گلگت اور اسکردو میں دریائے سندھ کے ساتھ جگلوٹ سے استک تک تلاش جاری رکھے ہوئے تھے، ریسکیو 1122 کی گلگت ٹیم نے 16 مئی کو لاپتا ہونے کے بعد سے ہی سرچ آپریشن شروع کر دیا تھا۔یہ آپریشن عالم پل سے شانگس کے علاقے تک مختلف مقامات پر جاری رہا، جب کہ اسکردو میں بھی ریسکیو 1122 ٹیم تلاشی میں مصروف ہے، دورانِ آپریشن ریسکیو اہلکاروں نے پولیس چیک پوسٹس سے سیاحوں کی نقل و حرکت سے متعلق معلومات حاصل کیں اور مقامی ہوٹل مالکان اور علاقہ مکینوں سے بھی معلومات اکٹھی کیں۔انہوں نے دور دراز اور دشوار گزار علاقوں میں دوربینوں کی مدد سے ممکنہ حادثاتی مقامات کی بھی تلاش کی۔بلتستان روڈ پر بالخصوص گلگت کے جگلوٹ سے اسکردو کے استک علاقے تک کئی حادثات ہو چکے ہیں، جہاں گاڑیاں دریائے سندھ میں جا گرتی ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button