تازہ ترین
نیٹکو قومی ادارہ ،منافع بخش بنانے کے لیے حکومت ہر ممکن تعاون فراہم کرے گی، جسٹس (ر)یار محمد گلگت یوتھ کے مختلف صدور نے غیر قانونی شناختی کارڈ ، ڈومیسائل ،پاسپورٹ اجرا کی تحقیقات کیلئے نگران وز... گلگت کنوداس کلین ڈرنکنگ واٹر سپلائی منصوبہ 9سال سے مکمل نہ ہو سکا، لاگت 85 تک پہنچ گئی، عوام کا اظہا... (ن) لیگ گلگت بلتستان میں اہم پیشرفت، پارٹی کے اندرونی اختلافات ختم گلگت میونسپل حدود میں غیر قانونی تجاوزات کے خلاف بھرپور کریک ڈاؤن، دکانیں، فٹ پاتھ اور چار دیواریاں ... چپورسن زلزلہ متاثرین کیلئے ونٹرائزڈ ٹینٹس، فوڈ پیکس اور امدادی سامان روانہ، سڑک ایمرجنسی بنیادوں پر ... گلگت بلتستان کی لیڈر شپ کی بھی کشمیری حریت یاسین ملک سے اظہاریکجہتی، پھانسی دیئے جانے کی کوششوں پراظ... ’بابر اعظم کو ناک آؤٹ میچ نہیں کھلانا چاہیے‘ بنگلادیشی بورڈ نے اہم اجلاس طلب کرلیا، بھارت جانے سے متعلق کھلاڑیوں سے رائے لی جائیگی ٹی 20 ورلڈ کپ: پی سی بی کا آئی سی سی کو خط، کی بنگلہ دیش کے موقف کی حمایت
ضلع گلگت

ریسکیو 1122 سکردو کا کامیاب آپریشن، گجرانوالہ سے تعلق رکھنے والے نوجوانوں کی لاشیں برآمد

گلگت بلتستان کے ضلع روندو میں ستک اور گنجی کے درمیان ٹریفک حادثہ میں جاں بحق چاروں نوجوانوں کی لاشیں ریسکیو 1122 سکردو نے تین روزہ پیچیدہ آپریشن کے بعد برآمد کر لیں۔حادثے کے فوری بعد ڈائریکٹر جنرل ریسکیو 1122 گلگت بلتستان عظیم اللہ کی خصوصی ہدایات پر ریسکیو ٹیم حرکت میں آئی۔ ریسکیو اہلکاروں نے انتہائی دشوار گزار پہاڑی راستوں، خطرناک کھائیوں اور شدید موسم کا سامنا کرتے ہوئے مسلسل تین دن تک آپریشن جاری رکھا،تربیت یافتہ اہلکاروں نے پیشہ ورانہ مہارت کا مظاہرہ کرتے ہوئے ریپلنگ کے ذریعے کھائی میں اتر کر لاشوں کو انتہائی احتیاط کے ساتھ نکالا، تمام لاشوں کو فوری طور پر دمبوداس سول ہسپتال منتقل کیا گیا ہے جہاں سے ضروری کارروائی کے بعدمیتوں کو ان کے آبائی علاقے گجرانوالہ روانہ کیا جائے گا۔ریسکیو آپریشن ڈائریکٹر جنرل عظیم اللہ، ڈسٹرکٹ آفیسر طاہر، ایمرجنسی آفیسر کلیم اور ریجنل ایمرجنسی آفیسر بلتستان اسلام الدین کی براہ راست نگرانی اور قیادت میں مکمل کیا گیا۔ اعلیٰ افسران کی موثر حکمت عملی اور بروقت فیصلے اس کٹھن آپریشن کی کامیابی میں اہم ثابت ہوئے۔واضح رہے کہ تین روز قبل روندوستک پڑی کے قریب ایک گاڑی گہری کھائی میں جا گری تھی جس میں سوار تمام افراد جاں بحق ہو گئے تھے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button