تازہ ترین
نیٹکو قومی ادارہ ،منافع بخش بنانے کے لیے حکومت ہر ممکن تعاون فراہم کرے گی، جسٹس (ر)یار محمد گلگت یوتھ کے مختلف صدور نے غیر قانونی شناختی کارڈ ، ڈومیسائل ،پاسپورٹ اجرا کی تحقیقات کیلئے نگران وز... گلگت کنوداس کلین ڈرنکنگ واٹر سپلائی منصوبہ 9سال سے مکمل نہ ہو سکا، لاگت 85 تک پہنچ گئی، عوام کا اظہا... (ن) لیگ گلگت بلتستان میں اہم پیشرفت، پارٹی کے اندرونی اختلافات ختم گلگت میونسپل حدود میں غیر قانونی تجاوزات کے خلاف بھرپور کریک ڈاؤن، دکانیں، فٹ پاتھ اور چار دیواریاں ... چپورسن زلزلہ متاثرین کیلئے ونٹرائزڈ ٹینٹس، فوڈ پیکس اور امدادی سامان روانہ، سڑک ایمرجنسی بنیادوں پر ... گلگت بلتستان کی لیڈر شپ کی بھی کشمیری حریت یاسین ملک سے اظہاریکجہتی، پھانسی دیئے جانے کی کوششوں پراظ... ’بابر اعظم کو ناک آؤٹ میچ نہیں کھلانا چاہیے‘ بنگلادیشی بورڈ نے اہم اجلاس طلب کرلیا، بھارت جانے سے متعلق کھلاڑیوں سے رائے لی جائیگی ٹی 20 ورلڈ کپ: پی سی بی کا آئی سی سی کو خط، کی بنگلہ دیش کے موقف کی حمایت
ضلع دیامر

دیامر بھاشا ڈیم پراجیکٹ کے لیفٹ ایبٹمنٹ پر کھدائی کا اہم مراحلہ مکمل ، مین ڈیم فائونڈیشن پر کھدائی کا کام جاری

دیامر بھاشا ڈیم پراجیکٹ میں اہم تعمیراتی پیشرفت ہوئی ہے۔ ترجمان کے مطابق دیامر بھاشا ڈیم پراجیکٹ کے لیفٹ ایبٹمنٹ پر کھدائی کا اہم مراحلہ مکمل کرلیاگیا ہے جبکہ مین ڈیم فائونڈیشن پر کھدائی کا کام جاری ہے۔ دیامر بھاشا ڈیم کے کنٹریکٹر (ایف ڈبلیو او ) نے مین ڈیم کے لیفٹ ایبٹمنٹ سے 25 لاکھ کیوبک میٹر کھدائی مکمل کی ہے۔دیامر بھاشا ڈیم کی لیفٹ ایبٹمنٹ کی اونچائی 185 میٹر اور چوڑائی 120 میٹر ہے۔ مین ڈیم کے رائٹ ابیٹمنٹ پر 61 فیصد کھدائی کا کام مکمل کر لیا گیا ہے۔ مین ڈیم سائٹ پر ڈیم فاونڈیشن ایریا میں کھدائی کا کام بھی بہت جلد مکمل کرلیا جائے گا۔ واضح رہے کہ دیامر بھاشا ڈیم کے 17 سائٹس پر دن رات تعمیراتی سرگرمیاں جاری ہیں۔

https://imasdk.googleapis.com/js/core/bridge3.695.1_en.html#fid=goog_169020977

دیامر بھاشا ڈیم ملکی ترقی کےلیے انتہائی اہم اور سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔دیامربھاشا ڈیم 272 میٹر بلند دنیا کا سب سے بڑا رولر -کمپیکٹڈ۔ کنکریٹ (آر سی سی) ڈیم ہے۔ ڈیم میں پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت 8اعشاریہ ایک ملین ایکڑفٹ ہے جس سے 12لاکھ 30ہزار ایکڑ اراضی زیرکاشت آئے گی۔ دیامربھاشا ڈیم کی بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت 4ہزار 500میگاواٹ ہے جس سے قومی نظام کو سالانہ 18 ارب یونٹ سستی اور ماحول دوست پن بجلی میسر آئے گی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button