تازہ ترین
حقِ خودارادیت کیلئے کشمیریوں کی جدوجہد ایک دن ضرور رنگ لائے گی،وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان حقِ خودارادیت کیلئے کشمیریوں کی جدوجہد ایک دن ضرور رنگ لائے گی،وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان حقِ خودارادیت کیلئے کشمیریوں کی جدوجہد ایک دن ضرور رنگ لائے گی،وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان تنازعہ جموں و کشمیر کا حل جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کی ضمانت ہے،نگران وزیراعلی گلگت بلتستان نیٹکو قومی ادارہ ،منافع بخش بنانے کے لیے حکومت ہر ممکن تعاون فراہم کرے گی، جسٹس (ر)یار محمد گلگت یوتھ کے مختلف صدور نے غیر قانونی شناختی کارڈ ، ڈومیسائل ،پاسپورٹ اجرا کی تحقیقات کیلئے نگران وز... گلگت کنوداس کلین ڈرنکنگ واٹر سپلائی منصوبہ 9سال سے مکمل نہ ہو سکا، لاگت 85 تک پہنچ گئی، عوام کا اظہا... (ن) لیگ گلگت بلتستان میں اہم پیشرفت، پارٹی کے اندرونی اختلافات ختم گلگت میونسپل حدود میں غیر قانونی تجاوزات کے خلاف بھرپور کریک ڈاؤن، دکانیں، فٹ پاتھ اور چار دیواریاں ... چپورسن زلزلہ متاثرین کیلئے ونٹرائزڈ ٹینٹس، فوڈ پیکس اور امدادی سامان روانہ، سڑک ایمرجنسی بنیادوں پر ...
پاکستان

موجودہ دور کا پاکستانی ’ویون رچرڈ‘ کون ہے؟ عماد عرفانی نے نام بتا دیا

کراچی : اے آر وائی ڈیجیٹل کے مقبول ترین ڈرامہ سیریل ’کبھی میں کبھی تم‘ میں شاندار اداکاری کے جوہر دکھانے والے اداکار عماد عرفانی نے موجودہ دور کے پاکستانی ’ویون رچرڈ‘ کا نام بتا دیا۔کرکٹ سے آگاہی سے متعلق ایک سوال کے جواب میں اداکار عماد عرفانی نے بتایا کہ بنیادی طور پر میں ٹیسٹ کرکٹ کو ہی اصل کرکٹ مانتا ہوں، کیونکہ اس میں کھلاڑی کی توجہ اس کی ذہنی و جسمانی کارکردگی اور مستقل مزاجی کا پتہ چلتا ہے۔

اداکار عماد عرفانی نے کہا کہ وقت کے ساتھ ساتھ کرکٹ سے تعلق لوگوں کا رجحان اور دلچسپی بھی بدلتی جارہی ہے، اب 5 دن کا کھیل 20 اوورز میں تبدیل ہوگیا ہے لیکن اس کا بھی اپنا علیحدہ مقام ہے۔ان کا کہنا تھا کہ میں ویسے تو باسط علی اور کامران اکمل کا بہت بڑا فین ہوں کیونکہ ان دونوں نے بہت زیادہ کرائسز میں اپنی اننگز کامیابی سے کھیلی ہیں، دونوں کرکٹرز کے چھکے چوکے دیکھنے میں مزہ آتا تھا۔

میزبان نے سوال کیا کہ آپ کی نظر میں اس وقت کا پاکستانی’ویون رچرڈ‘ کون ہے جس کے جواب میں اداکار عماد عرفانی نے برملا کہا کہ اس کیلیے میں فخر زمان کا بہت بڑا فین ہوں انہیں بڑا کرکٹر سمجھتا ہوں۔نوے کی دہائی کے کرکٹرز کے بارے میں ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ اُس وقت کی پاکستانی ٹیم میں پہلے سے آٹھویں نمبر تک کے کھلاڑی کی جو پرفارمنس تھی وہ بعد کی ٹیموں میں دیکھنے کو نہیں ملتی۔ ان کی اس بات کی تصدیق پروگرام میں موجود سابق کرکٹر باسط علی اور کامران اکمل نے بھی کی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button