ایڈیشنل چیف سیکریٹری (ڈویلپمنٹ) گلگت بلتستان کی زیر صدارت ترقیاتی اسکیموں کی پیش رفت بارے اجلاس منعقد،اسکیموں کا تفصیلی جائزہ لیا

ایڈیشنل چیف سیکریٹری (ڈویلپمنٹ) گلگت بلتستان مشتاق احمد کی زیر صدارت ترقیاتی اسکیموں کی پیش رفت کا ایک اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا جس کا مقصد مالی سال کے اختتام سے قبل ہدفی اسکیموں کی زیادہ سے زیادہ تکمیل کو یقینی بنانا اور عوام کو بروقت فوائد پہنچانا تھا۔اجلاس میں تمام محکموں کی اسکیموں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
ایڈیشنل چیف سیکریٹری نے واضح ہدایات جاری کیں کہ تمام محکمے اپنی اسکیموں کی یا تو 100 فیصد تکمیل کو یقینی بنائیں یا کم از کم زیادہ سے زیادہ ممکنہ حد تک مکمل کریں تاکہ وسائل کا مؤثر استعمال ممکن بنایا جا سکے۔انہوں نے کہا کہ آئندہ مالی سال کے بجٹ میں فنڈز کی الاٹمنٹ موجودہ مالی سال کے دوران فنڈز کے استعمال پرنسپل اکاؤنٹنگ افسران (PAOs) سے مشروط ہوگی، تاکہ کارکردگی کی بنیاد پر وسائل کی تقسیم کی جا سکے۔
اجلاس میں بہتر کارکردگی دکھانے والے افسران کو سراہا گیا، جبکہ ناقص کارکردگی پر متعلقہ محکموں کو بہتری کی ہدایات دی گئیں۔اس موقع پر مشاہدہ کیا گیا کہ فوڈ ڈیپارٹمنٹ، اسکول ایجوکیشن، زراعت، واٹر مینجمنٹ، لوکل گورنمنٹ و دیہی ترقیات جیسے محکمے اہداف کے حصول کے لیے سنجیدہ اور پُرعزم ہیں۔ تاہم، محکمہ صحت، مواصلات و تعمیرات، اور ایکسائز و ٹیکسیشن کی کارکردگی تسلی بخش قرار نہیں دی گئی، اور انہیں اسکیموں کی تکمیل کے لیے ری اپروپری ایشنز یا 15 فیصد مجاز حد کے تحت اقدامات کرنے کی ہدایت کی گئی۔
ایڈیشنل چیف سیکریٹری گلگت بلتستان نے پاور ڈیپارٹمنٹ کو خصوصی ہدایت دی کہ وہ گلگت بلتستان بھر میں بجلی پیدا کرنے والے منصوبوں کی جلد تکمیل کو یقینی بنائیں تاکہ ان علاقوں کے عوام کو فوری ریلیف فراہم کیا جا سکے، جو طویل عرصے سے مشکلات کا شکار ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ تمام محکمے 15 فیصد مجاز حد کے کیسز کی فہرست 8 اپریل 2025 تک محکمہ منصوبہ بندی و ترقیات کو جمع کروائیں۔
ان کیسز پر غور کے لیے ایک خصوصی اجلاس جی بی ڈی ڈی ڈبلیو پی منعقد کرے گا، جو تمام قانونی تقاضوں اور زمینی حقائق کو مدنظر رکھتے ہوئے فیصلے کرے گا۔ واضح کیا گیا کہ ان اسکیموں کے لیے مالی وسائل موجودہ بجٹ سے ہی مہیا کیے جائیں گے۔اجلاس میں ایڈیشنل چیف سیکریٹری نے فورم کو بتایا کہ آئندہ ہفتے ایک فالو اپ اجلاس منعقد کیا جائے گا، جس میں تمام متعلقہ ڈپٹی کمشنرز اور محکمے شرکت کریں گے تاکہ اسکیموں کے نفاذ میں حائل رکاوٹوں کو دور کیا جا سکے اور ترقیاتی اہداف کے حصول کو ممکن بنایا جا سکے۔
Facebook Twitter










