تازہ ترین
حکومت آزاد صحافت پر یقین رکھتی ہے ،محدود وسائل کے باوجود صحافیوں کی فلاح و بہبود اور معاشی خوشحالی ک... آزادی صحافت کے عالمی دن کے حوالے سے سینٹرل پریس کلب گلگت اور گلگت یونین آف جرنلسٹس کےزیر اہتمام پریس... پریس کلب گلگت کے نومنتخب صدر اور کابینہ کی حلف برداری کی تقریب پریس کلب گلگت میں منعقد صحافیوں کی پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کی انجام دہی میں آسانی، بہبود کے لئے قانون سازی میں بھر پور کردار ا... گلگت بلتستان کے عوام کی جانب سے ڈیجیٹل ادائیگی کے نظام کو مثبت انداز میں اپنایا جا نے لگا قومی ایئرلائن کی گلگت کی 4 پروازیں منسوخ‘ سکردوکی تاخیر کا شکار اسلام سماجی انصاف کے اصولوں اور محنت کشوں کے حقوق کا درس دیتا ہے،وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان حاجی گلبر خ... بھارت مسلسل پاکستان کے خلاف الزام تراشی کر کے خطے میں جنگی ماحول کو ہوا دے رہا ہے ، وزیر اطلاعات گلگ... راولپنڈی سے گلگت آنے والی کار گہری کھائی میں جاگری ،ایک ہی خاندان کے آٹھ افراد جاں بحق بابراعظم نے پی ایس ایل کی تاریخ میں نیا سنگ میل عبور کرلیا
ضلع گلگت

مالی بے ضابطگیوں کے حوالے سے میڈیا اور سوشل میڈیا پر چلنے والی خبریں بے بنیاد ہیں،ڈی ڈی آئی گلگت بلتستان اسمبلی

گلگت بلتستان اسمبلی نے کہا ہےکہ مالی بے ضابطگیوں کے حوالے سے مختلف میڈیا اور سوشل میڈیا پر چلنے والی خبریں بے بنیاد ہیں۔ ڈپٹی ڈائریکٹر انفارمیشن گلگت بلتستان اسمبلی کے مطابق گلگت بلتستان اسمبلی کی منظوری سے سول سیکرٹریٹ کے تمام ملازمین سیکرٹریٹ اور انسینٹیو الائونس سے استفادہ کر رہے تھے جسکے بعد گلگت بلتستان اسمبلی کی فنانس کمیٹی نے مذکورہ الائونس کی گلگت بلتستان اسمبلی سیکرٹریٹ کے ملازمین کےلئے منظوری دی ہے۔محکمہ فنانس نے بلا وجہ 10 مارچ 2025 کو اے جی آفس کے نام ایک لیٹر جاری کیا اور محکمہ سروسز نے 11 مارچ 2025کو ایک لیٹر جاری کیا جسے مختلف میڈیا ہائوسز اور سوشل میڈیا پیجز نے مالی بے ضابطگیوں کی غیر مصدقہ خبریں چلا کر بے وجہ سیکرٹری گلگت بلتستان اسمبلی کی کردار کشی کی جو کہ بالکل غلط اور افسوس ناک ہے۔

محکمہ فنانس اور محکمہ سروسز کو شاید کوئی غلط فہمی ہوئی یا انہیں گلگت بلتستان اسمبلی کے مروجہ قوانین کے حوالے سے زیادہ علم نہیں ہے۔گلگت بلتستان اسمبلی کے تمام تر انتظامی اور مالی معاملات کے اختیارات گلگت بلتستان آرڈر 2018 اور گلگت بلتستان اسمبلی رولز آف پروسیجر اینڈ کنڈکٹ آف بزنس 2017کے تحت فنانس کمیٹی کو حاصل ہیں ۔ گلگت بلتستان اسمبلی کی فنانس کمیٹی نے حسب معمول گلگت بلتستان اسمبلی سیکرٹریٹ کے ملازمین کو فنانس کمیٹی کے رولز کے تحت ملازمین کے الائونسز میں اضافے کی منظوری دی اور قانونی نوٹیفکیشنز جاری کیے جس پر اے جی آفس نے عملدرآمد کرکے اپنی قانونی ذمہ داری پوری کی ۔محکمہ فنانس کو یہ اختیار نہیں ہے کہ وہ اسمبلی کے قانونی نوٹیفکیشنز کو غیر قانونی قرار دے کر عملدرآمد روکنے کے لیے لیٹر جاری کرے۔ اگر یہ اختیار کسی ماتحت محکمے کو دیئے گئے تو پارلیمانی نظام مذاق بن کر رہے گا۔لہٰذا محکمہ فنانس کو اپنے دائرہ اختیار میں رہ کر کام کرنا چاہیے۔محکمہ فنانس نے نہ صرف قوانین کی غلط تشریح کی ہے بلکہ حکام بالا اور آئینی اداروں کے درمیان غلط فہمیاں پیدا کرنے کی کوشش کی ہے۔محکمہ فنانس گلگت بلتستان اسمبلی کے ماتحت ہے اور بہت سارے معاملات میں اسمبلی کی قائمہ کمیٹیوں کے سامنے بھی جوابدہ ہے۔گلگت بلتستان آرڈر2018 اور گلگت بلتستان اسمبلی کے رولز آف پروسیجر کے تحت گلگت بلتستان اسمبلی ایک با اختیار ادارہ ہے جس کے تمام مالی انتظامی و دیگر معاملات کے اختیارات سپیکر اسمبلی اور فنانس کمیٹی کو حاصل ہیں۔ کوئی بھی محکمہ اسمبلی کے ملازمین کی تنخواہوں میں بلا وجہ کٹوتی اور کسی قسم کی انکوائری کرنے کا اختیار نہیں رکھتا ہے۔ اس طرح کے اقدامات گلگت بلتستان اسمبلی اور اس کی قائمہ کمیٹیوں کے استحقاق کو مجروع کرنے کے مترادف سمجھا جائیں گے اور حسب ضابطہ قانونی کارروائی عمل میں لائی جائیگی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button