معاشرے کوخوشحال ومضبوط بنانے کیلئے خواتین کی ترقی کیلئے سب کواپنا کردار ادا کرنا ہوگا ،سعدیہ دانش

ڈپٹی سپیکر گلگت بلتستان اسمبلی سعدیہ دانشن نے کہاہے کہ معاشرے کوخوشحال اورمضبوط بنانے کیلئے خواتین کی ترقی کیلئے سب کواپنا کردار ادا کرنا ہوگا ، تاریخ گواہ ہے کہ خواتین نے زندگی کے ہر میدان میں اپنا لوہا منوایا ہے اور کامیابیوں کے جھنڈے گاڑے ۔ہفتہ کوڈپٹی سپیکر گلگت بلتستان اسمبلی سعدیہ دانشن نے خواتین کے عالمی دن کے موقع پر اپنے پیغام میں کہا ہے کہ یہ دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ خواتین اس معاشرے کا کتنا لازمی اور اہم ستون ہیں،ان تمام خواتین کوسلام اور خراج تحسین پیش کرتے ہیں جنہیں اللہ تعالی نے ایک خاص مقام اور رتبہ دیا ہے۔
انہوںنے کہاکہ خواتین صرف ایک خاندان کی نہیں بلکہ ایک پورے معاشرے کی معمار ہیں اور زندگی کے ہر میدان میں اپنی مسلسل جدوجہد لگن اور محنت سے تاریخ رقم کرتی رہی ہیں۔
سعدیہ دانش نے کہاکہ کسی بھی قوم کی ترقی اس وقت تک ممکن نہیں جب تک وہاں کی خواتین کو تعلیم، صحت، عزت اور برابری کے مواقع نہ ملیں۔ڈپٹی سپیکرنے کہاکہ دین اسلام نے خواتین کو جو عزت و مقام دیا ہے وہ کسی اور نظام میں نہیں لیکن ان حقوق کا تحفظ، پاسداری اور خواتین تک ان کی رسائی کو ممکن بنانا معاشرے کے ہر فرد کی ذمیداری ہے۔
انہوںنے کہاکہ تعلیم صحت اور خواتین کی ترقی کیلئے ہم سب کواپنا کردار ادا کرنا ہوگا تاکہ خواتین کو بااختیار بنا کر معاشرے کو خوشحال اور مضبوط کیا جا سکے۔ سعدیہ دانش نے کہاکہ تاریخ گواہ ہے کہ خواتین نے زندگی کے ہر میدان میں اپنا لوہا منوایا ہے اور کامیابیوں کے جھنڈے گاڑے ہیں،ملکی سیاست میں خواتین کا کردار ہمیشہ مثالی رہا ہے۔
انہوںنے کہاکہ تحریک پاکستان میں محترمہ فاطمہ جناح کا کردار ہو یا ایم آر ڈی کی تحریک میں محترمہ نصرت بھٹو کا کردار خواتین جس تحریک کا حصہ رہی ہیں وہ تحریک کامیابی سے ہمکنار ہوئی ہے۔
انہوںنے کہاکہ آج بین الاقوامی سیاست میں اگر خواتین کے کردار پر نظر ڈالیں تو جو سب سے روشن ستارہ ہمیں اس بین الاقوامی سیاسی افق پر نظر آتا ہے وہ شہید محترمہ بینظیر بھٹو ہیں جنہوں نے سیاست کو ایک نئی جہت اور نئی سوچ اور ایک نیا ویژن دیا، جنہوں نے نہ صرف اپنی جماعت کی سربراہی کی بلکہ پوری دنیا میں اپنے کردار اور سیاسی بصیرت سے ملک پاکستان کا نام روشن کیا اور پوری دنیا کو یہ پیغام دیا کہ ایک خاتون کسی بھی ظلم و جبر کے خلاف ڈٹ جائے تو بڑے سے بڑے آمر سے ٹکرا جاتی ہے وہ ایک باشعور سیاسی جانشین بھی بن سکتی ہے اور ایک بہترین ملکی سربراہ بن کر پوری دنیا کے لئے رول ماڈل بن سکتی ہے۔
سعدیہ دانش نے کہاکہ بحیثیت خاتون وزیراعظم شہید بینظیر بھٹو نے خواتین کیلئے جو تاریخی اقدامات اٹھائے ان کی مثال نہیں ملتی زندگی کے تمام شعبوں میں خواتین کی نمائندگی سمیت ان کے لئے ملازمتوں کے مواقع فراہم کرنا خواتین کیلئے مخصوص اداروں کی تشکیل تاریخی اصلاحات ہیں ان کے اسی ویژن پر عمل کرتے ہوے پیپلزپارٹی کی حکومت نے سب سے زیادہ خواتین سے متعلق قانون سازی پر زور دیا اور ملک میں خواتین کے حوالے سے جتنے قوانین بنائے گئے ہیں
جس میں تحفظ خواتین ایکٹ، گھریلو تشدد کے روک تھام، خواتین کو کام کی جگہوں پر ہراسانی سے محفوظ رکھنے کیلئے بنایا گیا قانون،کم عمری کی شادیوں کی روک تھام اور وراثت میں خواتین کے حق سے متعلق قانون ایسے قوانین ہیں جن پر عملدرآمد وقت کی سب سے اہم ضرورت ہے۔
انہوںنے کہاکہ ان قوانین کے مطابق اصلاحات کے نافذالعمل ہونے سے خواتین اور ان کے حقوق کو تحفظ مل سکتا ہے۔











