محکمہ صحت گلگت بلتستان نے مریضوںکو تنہاء چھوڑنے بارے سوشل میڈیا ،اخبارات میں گردش کرنیوالی خبریں مستردکردیں

محکمہ صحت حکومت گلگت بلتستان کی جانب سے سوشل میڈیا اور اخبارات میں گردش کرنیوالی خبروں کو مستردکردیا۔ جاری بیان میں کہاگیا ہے کہ ہیلتھ انڈومنٹ فنڈ گلگت بلتستان حکومت کا ایک اہم منصوبہ ہے، جو غریب مریضوں کو زندگی بچانے والی طبی سہولیات فراہم کرنے میں بنیادی کردار ادا کر رہا ہے۔
اس فنڈ کے قیام 2020 سے لے کر اب تک 1300 سے زائد مریضوں کا مفت علاج کیا جا چکا ہے، جن میں جگر اور گردے کی پیوندکاری، بون میرو ٹرانسپلانٹ، کینسر اور دل کے علاج شامل ہیں۔ اب تک اس پروگرام کے تحت 84 کروڑ روپے خرچ کیے جا چکے ہیں۔ مالی سال 2024-25 کے دوران اب تک تقریبا 325 مریضوں کو مفت علاج فراہم کیا جا چکا ہے، جبکہ اسپتالوں کو 25 کروڑ روپے کے فنڈز جاری کیے گئے ہیں۔
تاہم، مریضوں کی بڑی تعداد اور مہنگے علاج کی وجہ سے یہ فنڈ اس وقت 25 کروڑ روپے کے خسارے کا سامنا کر رہا ہے، جس کی وجہ سے نئے مریضوں کو قبول کرنا عارضی طور پر ممکن نہیں ہے۔ محکمہ صحت واضح کرنا چاہتا ہے کہ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ان افواہوں میں کوئی صداقت نہیں کہ زیر علاج مریضوں کو تنہا چھوڑ دیا گیا ہے۔ سخت مالی دبا کے باوجود، زیر علاج تقریبا 450 مریضوں کو مسلسل سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں، اور ان کے مکمل صحت یاب ہونے تک علاج جاری رہے گا۔
تاہم بجٹ کی کمی کے باعث 12 فروری 2025 سے نئے مریضوں کے اندراج کو عارضی طور پر معطل کر دیا گیا ہے۔ تاہم، گلگت بلتستان حکومت اس فنڈ کی اہمیت کو تسلیم کرتی ہے اور نئے مریضوں کے علاج کی بحالی کے لیے اضافی فنڈز کے حصول کی بھرپور کوششیں کر رہی ہے۔ ہم عوام سے درخواست کرتے ہیں کہ درست معلومات کے لیے سرکاری بیانات پر بھروسہ کریں اور غیر مصدقہ خبروں پر یقین نہ کریں۔ محکمہ صحت صورتحال کی بہتری کے مطابق بروقت اپڈیٹس فراہم کرتا رہے گا ۔











