کے آئی یو کا گلاف ٹو اور جی بی آر ایس پی کے تعاون سے کلائمیٹ ریزیلینٹ انفراسٹرکچر گائیڈ لائنز پر ورکشاپ کا انعقاد

قراقرم انٹرنیشنل یونیورسٹی نے گلاف ٹو اور جی بی آر ایس پی کے تعاون سے کلائمیٹ ریزیلینٹ انفراسٹرکچر گائیڈ لائنز پر ایک روزہ ورکشاپ کا انعقاد کیا۔شعبہ تعلقا ت عامہ کے آئی یو کے مطابق ورکشاپ کا مقصد وائس چانسلر کے آئی یو کی سربراہی میں جامعہ کی ٹیم کی طرف سے کلائمیٹ ریزیلینٹ انفراسٹرکچر کے حوالے سے تیار کردہ رہنما خطوط سے متعلق دیگر سٹیک ہولڈرز کو آگاہ کرنا اور ان سے آراء جمع کرنا تھا۔
ایک روزہ ورکشاپ سے بطور مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے وا ئس چانسلر کے آئی یو پروفیسر ڈاکٹر عطا اللہ شاہ نے ماحولیاتی لچکدار انفراسٹرکچر کی منصوبہ بندی، ڈیزائننگ اور مختلف شعبوں میں ان کے اطلاق میں شامل مختلف اقدامات پر روشنی ڈالی اور رہنما خطوط میں مزید بہتری سے متعلق شرکاء سے رائے بھی لی۔
وائس چانسلر نے انجینئرز کے فعال کردار پر زور دیا اور صلاحیت سازی ورکشاپ میں ان کی بھرپور شمولیت کو سراہا۔
یاد رہے کہ جامعہ کی طرف سے مرتب کردہ رہنما خطوط میں جی بی میں انفراسٹرکچر پر موسمیاتی تبدیلی کے خصوصی اثرات کے ساتھ عالمی بہترین طریقوں پر توجہ دی گئی ہے۔
وائس چانسلر نے اپنے خطاب میں کہاکہ کلائمیٹ ریسیلینٹ انفراسٹرکچر کے حوالے سے عالمی بہترین طریقوں پر مبنی رہنما خطوط گلگت بلتستان کے بنیادی ڈھانچے پر موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کو حل کریں گے۔
ان خطوط میں عمارت، سڑک اور ٹرانسپورٹ، توانائی اور پانی کے شعبوں پر توجہ دی گئی ہے۔ وائس چانسلر نے گلاف ٹو اور جی بی آر ایس پی کی جانب سے موسمیاتی تبدیلی سمیت دیگر امور پر پائیدار شراکت داری اور ان کی کارکردگی
کی تعریف کی اور ماحولیاتی تبدیلی کے اثرات کو کم کرنے کے لیے جامع منصوبہ بندی، ڈیزائننگ اور بنیادی ڈھانچے کی تعمیر کی ضرورت پر زور دیا۔
ورکشاپ میں گلگت ضلع کے انجینئرز اور منصوبہ سازوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ورکشاپ میں وائس چانسلر کے ٹیم کے رکن و شعبہ فارسٹری کے سربراہ ڈاکٹر ظفر خان نے موسمیاتی تبدیلی کے منظرناموں، تعمیر شدہ ماحول پر اثرات اور موسمیاتی لچک کے تصور پر روشنی ڈالی۔اس سے قبل گلاف ٹو کے کوآرڈینیٹر راشد خان نے گلاف ٹو منصوبوں کی اہمیت پر روشنی ڈالی اور جامعہ کی قیادت کا مختلف مطالعات میں فعال کردار پر شکریہ ادا کیا۔
جبکہ پروگرام مینیجر جی بی آر ایس پی عثمان گنڈا پور نے گائیڈ لائنز کے نفاذ پر پالیسی سازوں، منصوبہ سازوں اور ڈیزائنرز کے ساتھ ساتھ فیلڈ انجینئرز کے کردار پر زور دیا۔










